Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
59 - 278
فلھذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے(1)،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                           یعنی : اور خود انبیاء علیہم السلام کو بھی (دائمی) موت نہیں وہ زندہ اور باقی ہیں، ان کو موت صرف اتنی ہے کہ ایک بار ایک آن کے لئے موت کا ذائقہ چکھتے ہیں پھر ان کی ارواح مقدسہ کو انہی کے جسموں میں لوٹا دیا جاتا ہے، اور ویسی ہی حیات حقیقی عطا فرما دی جاتی ہے جیسے کہ وہ دنیا میں تھے ان کی حیات شہداء کی حیات سے زیادہ کامل ہے کیونکہ شہداء کی حیات معنوی ہے۔

    قال الإمام الأجل جلال الدین السیوطي في ''الحاوي للفتاوی'': فہذہ الأخبار دالۃ علی حیاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم وسائر الأنبیائ، وقد قال تعالی في الشہدائ: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ) والأنبیاء أولی بذلک فہم أجل وأعظم وما نبي إلاّ وقد جمع مع النبوۃ وصف الشہادۃ فیدخلون في عموم لفظ الآیۃ. وأخرج أحمد وأبو یعلی والطبراني والحاکم في ''المستدرک'' والبیہقي في ''دلائل النبوۃ'' عن ابن مسعود قال: ((لأن أحلف تسعًا: إنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل قتلا أحب إلي من أن أحلف واحدۃ إنّہ لم یقتل، وذلک أنّ اللہ عزوجل اتخذہ نبیا واتخذہ شہیدا)). (''المستدرک'' للحاکم، کتاب المغازي و السرایا، الحدیث: ۴۴۵۰، ج۳، ص۶۰۶)۔

    وأخرج البخاري والبیہقي عن عائشۃ قالت:کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول في مرضہ الذي توفي فیہ: ((لم أزل أجد ألم الطعام الذي أکلت بخیبر، فھذا أوان انقطع أبہري من ذلک السم))، (''دلائل النبوۃ''، ص۱۷۲، ج۷)،

     فثبت کونہ صلی اللہ علیہ وسلم حیاً في قبرہ بنص القرآن، إمّا من عموم اللفظ وإما من مفہوم الموافقۃ، قال البیہقي في کتاب الاعتقاد: (الأنبیاء بعد ما قبضوا ردت إلیہم أرواحہم، فہم أحیاء عند ربہم کالشہدائ)، وقال القرطبي في التذکرۃ: (الموت لیس بعدم محض وإنما ہو انتقال من حال إلی حال، ویدل علی ذلک أن الشہداء بعد قتلہم وموتہم أحیاء یرزقون فرحین مستبشرین، وہذہ صفۃ الأحیاء في الدنیا، وإذا کان ھذا في الشہداء فالأنبیاء أحق بذلک وأولی، وقد صح أنّ الأرض لا تأکل أجساد الأنبیائ). ''الحاوي للفتاوی''، کتاب البعث، أنباء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیائ، ج۲، ص۱۷۹۔۱۸۰.

    وقد ثبت أنّ نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو سید الشہدائ، وانظر لتفصیل ہذہ المسألۃ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۶۴، ج۱۵، ص۶۱۳، ۶۲۴، و ج۲۹، ص۱۱۰.

1۔۔۔۔۔۔ في''البدائع والصنائع''، کتاب الصلاۃ، فصل في الشہید، ج۲، ص۷۴: (فالعبد وإن جل قدرہ لا یستغني عن الدعاء ألا تری أنّہم صلوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ولا شک أنّ درجتہ کانت فوق درجۃ الشہداء وإنما وصفہم بالحیاۃ في حق أحکام الآخرۃ ألا تری إلی قولہ تعالی ( بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ)، فأما في حق أحکام الدنیا فالشہید میت یقسم مالہ، وتنکح امرأتہ بعد انقضاء العدۃ، ووجوب الصلاۃ علیہ من أحکام الدنیا فکان میتاً فیہ فیصلی علیہ واللہ أعلم بالصواب وإلیہ المرجع والمآب .
Flag Counter