Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
58 - 278
    فائدہ: نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اُسے معونت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کفّار سے جو اُن کے موافق ظاہر ہو، اُس کو اِستِدراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہر ہو تو اِہانت ہے۔(1) 

    عقیدہ (۳۳): انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں(2)، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں، تصدیقِ وعدہ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زندہ ہوگئے ، اُن کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے (3)، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                                             1۔۔۔۔۔۔ في ''النبراس''، أقسام الخوارق سبعۃ، ص۲۷۲: (أقسام الخوارق سبعۃ:أحدہا: المعجزۃ من الأنبیائ. ثانیہا: الکرامۃ

للأولیائ. ثالثہا: المعونۃ لعوام المؤمنین ممن لیس فاسقاً ولا ولیاً. رابعہا: الإرہاص للنبي قبل أن یبعث کتسلیم الأحجار علی النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، وأدرجہ بعضھم في الکرامۃ و بعضھم في المعجزۃ مجازاً. خامسہا: الاستدراج للکافر والفاسق المجاہر علی وفق غرضہ سمّي بہ لأنّہ یوصلہ بالتدریج إلی النار. سادسہا: الإہانۃ للکافر والفاسق علی خلاف غرضہ کما ظہر عن مسیلمۃ الکذاب إذ تمضمض في ماء فصار ملحاً و مس عین الأعور فصار أعمی. سابعہا: السحر لنفس شریرۃ تستعمل أعمالاً مخصوصۃ بإعانۃ الشیاطین).

2۔۔۔۔۔۔ عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء علیہم السلام فنبي اللہ حي یرزق)). ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، ذکر وفاتہ ودفنہ، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((الأنبیاء أحیاء في قبورہم یصلون)). ''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۳۴۱۲، ج۳، ص۲۱۶.

    قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الأنبیاء لا یموتون وإنّہم یصلون ویحجون في قبورہم وأنّہم أحیائ)).

''فیوض الحرمین'' للشاہ ولي اللہ المحدث الدھلوي، ص۲۸.

3۔۔۔۔۔۔ في ''روح المعاني''، الأحزاب، ج۱۱، الجزء الثاني، ص۵۲۔۵۳، تحت الآیۃ: ۴۰: (أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم حي بجسدہ وروحہ، وأنّہ یتصرف ویسیر حیث شاء في أقطار الأرض وفي الملکوت). وذہب ''أي: الإمام جلال الدین السیوطي'' إلی نحو ھذا في سائر الأنبیاء علیہم السلام فقال: إنّہم أحیاء، ردت إلیہم أرواحہم بعد ما قبضوا وأذن لہم في الخروج من قبورہم والتصرف في الملکوت العلوي والسفلي) ملتقطًا. 

    في ''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۲: (خود انبیاء راموت نبود وایشاں حی وباقی اندوموت ھماں است کہ یکبار چشیدہ اند، بعد از اں ارواح بابدان ایشاں اعادت کنند وحقیقت حیات بخشند چنانچہ در دنیا بودند کامل تر از حیات شہدا کہ آن معنوی است).
Flag Counter