Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
56 - 278
ان کو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک معاذاﷲ چوہڑے چمار کی مثل کہنا(1) کُھلی گستاخی اور کلمہ کفر ہے۔

عقیدہ (۳۱): نبی کے دعوی نبوّت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا علانیہ دعویٰ فرماکر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمّہ لیتا اور منکروں کو اُس کے مثل کی طرف بلاتا ہے، اﷲ عزوجل اُس کے دعویٰ کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں (2)، ۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    في ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۲۶۷۵، ج۳، ص۵۷: [وفیہ] قال: ((یا فاطمۃ ونحن أھل بیت قد أعطانا اللہ سبع خصال لم یعط أحد قبلنا، ولا یعطی أحد بعدنا، أنا خاتم النبیین، وأکرم النبیین علی اللہ۔۔۔ إلخ))۔

    في ''الخصائص الکبری''، ج۲، ص۳۴۰- ۳۴۱: عن ابن مسعود قال: ((إنّ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم أکرم الخلق علی اللہ یوم القیامۃ)). وعن عبد اللہ بن سلام قال: ((إنّ أکرم خلیقۃ اللہ علی اللہ أبو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم)). 

    ''فتاوی رضویہ'' میں ''فتاوی امام سراج الدین '' کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے: (ا للہ تعالیٰ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا: ''قد مننتُ علیک بسبعۃ أشیاء أولہا أني لم أخلق في السموات والأرض أکرم علي منک'')۔ 

''فتاوی سراج الدین البلقیني''، شعر۱، ص۱۲۱، بحوالہ ''فتاوی رضویہ''، ج۳۰، ص۱۹۵۔

1۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ''تقویۃ الإیمان'' میں ہے: ''اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے''۔ 

     ''تقویۃ الإیمان مع تذکیر الإخوان''، ص۲۵، ( مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی).

    ''تقویۃ الایمان ''کے مصنف کا یہ کہنا کھلی گستاخی اور کلمہ کفر ہے؛ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں ادنی گستاخی بھی کفر ہے جیسا کہ مفسر القرآن صاحب ''روح البیان '' علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''مختار یہ ہے کہ بے شک مسلمانوں میں سے وہ شخص جس سے ارادۃً و قصداً ایسی چیز ظاہر ہوئی جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تخفیف (یعنی بے ادبی) پر دلالت کرے ایسے شخص کا قتل کرنا واجب ہے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی کہ وہ قتل سے بچ جائے اگرچہ وہ کلمہ شہادت پڑھے اور رجوع و توبہ کرے.... اور یہ یقین کر کہ بے شک اجماع امت ہے اس بات پر کہ ھمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور انبیاء کرام علیہم الصلاۃو السلام میں سے جس نبی علیہ السلام کی بھی تخفیف ہو کفر ہے عام ازیں کہ تخفیف کرنے والا تخفیف کو حلال سمجھ کر کرے یا نبی کی عزت کا معتقد ہو کر کرے بہرحال کفر ہے اس مسئلہ میں علماء کرام کا کوئی اختلاف نہیں، سب (گالی ) کا ارادہ ہو یا نہ ہو اس لئے کہ کوئی بھی کفر میں بوجہ جہالت اور بوجہ دعوی لغزش ِ زبانی کے معذور نہ سمجھا جائے گا جب کہ اس کی عقلِ فطرت صحیح وسالم ہو''۔ 

''تفسیر روح البیان''، ج۳، ص۳۹۴، پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲.

     وفي ''الشفا''، الباب الأوّل في بیان ما ہوحق صلی اللہ علیہ وسلم سب أونقص من تعریض ونصّ، ج۲، ص۲۱۴.

2۔۔۔۔۔۔ في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث النبوات، ص۱۳۵: (وأیدہم) أي: الأنبیاء (بالمعجزات الناقضات للعادات) جمع معجزۃ وہي أمر یظہر بخلاف العادۃ علی ید مدعي النبوۃ عند تحدي المنکرین علی وجہ یعجز المنکرین عن الإتیان بمثلہ).

    و''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۲۴۰۔
Flag Counter