| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کا(1)، اِن حضرات کو مرسلین اُولو العزم(2) کہتے ہیں(3) اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مرسلینِ انس و مَلَک و جن و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں۔ جس طرح حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں، بلا تشبیہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے صدقہ میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل۔(4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تنبیہ: قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، ص۱۲۴: (والحق أنّ تفضیل نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی العالمین جمیعا مقطوع بہ مجمع علیہ، بل کاد أن یکون من ضروریات الدین، فإنّی لا أعلم یجھلہ أحد من المسلمین فاعرف وتثبت).وانظر للتفصیل: ''تجلي الیقین بأنّ نبینا سید المرسلین'' للإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰.
1۔۔۔۔۔۔ في''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۴۔۱۲۵: (أفضل الأنبیاء محمد ، چنانچہ فرمودہ ((أنا سید ولد آدم ولا فخر)) در عرف بمعنی نوع انسان آبد تا آدم، نیز در مفہوم آن داخل بود، وحدیث ((آدم ومن دونہ تحت لوائي)) در مقصود ظاہرتر وصریح تر است، فضیلت بعد ازاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام راست، وبعد ازوي موسی وعیسی ونوح علیہم السلام راست، وایں پنجتن اولوالعزم اند کہ بزرگترین وفاضلترین رسل اند، وصبر ومجاہدہ ایشاں در راہ حق ازھمہ بیشتر است) ملتقطاً.
یعنی: نبیوں میں سب سے افضل سید عالم ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں چنانچہ آپ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:''میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں''۔ اولاد آدم عرف میں نوع انسانی کے لئے جس میں سیدنا آدم علیہ السلام بھی داخل ہیں بولا جاتا ہے، د وسری حدیث میں ہے کہ: ''آدم اور ان کے سوا سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے''۔ یہ حدیث آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فضیلتِ مطلقہ کے مقصد میں ظاہر تر اور بہت صریح ہے۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم)کے بعد صاحب ِفضیلت حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ہیں، پھر حضرت موسی پھر عیسی اور نوح (علیہم السلام) ہیں اور یہ پانچوں حضرات اُولوا العزم ہیں جو سب رسولوں اور نبیوں میں افضل اور بزرگ تر ہیں، راہ حق میں ان کا صبر و مجاہدہ سب سے زیادہ ہے۔
2۔۔۔۔۔۔ بلند وبا لا عزت و عظمت اور حوصلہ والے۔
3۔۔۔۔۔۔ (فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) پ۲۶، الأحقاف: ۳۵.
في ''تفسیر الطبري''، تحت ہذہ الآیۃ: عن عطاء الخُراسانيّ، أنّہ قال:(فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) نوح وإبراہیم وموسی وعیسی ومحمد صلی اللہ علیہم وسلم، الحدیث: ۳۱۳۲۹، ج۱۱، ص۳۰۳.
وفي ''الدر المنثور''، تحت ہذہ الآیۃ: عن ابن عباس قال: (أولوا العزم من الرسل النبي صلی اللہ علیہ وسلم ونوح وإبراہیم وموسی وعیسی)، ج۷، ص۴۵۴.
4۔۔۔۔۔۔ (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)، پ۴، اٰلِ عمرٰن:۱۱۰.