Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
46 - 278
    کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیا علیہم السلام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصہ اُلوہیت ہے، اِثبات عطائی کا ہے، کہ یہ انبیا ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافی اُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے، کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ اﷲ عزوجل کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیرِ متناہی، ورنہ جھل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جھل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذاﷲ مساوی ہو جائیں، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر، کھلا شرک ہے۔(1) انبیا علیہم السلام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں...؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے۔ (2) اولیا کو بھی علمِ غیب عطائی ہوتا ہے، مگر بواسطہ انبیا کے۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۴۰۸۔ ۴۰۹، ۴۴۵، ۴۵۰.

2۔۔۔۔۔۔ وفي ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱، الجزء الأوّل، ص۱۴۸: ( الغیب کلّ ما أخبر بہ الرسول علیہ السلام مما لا تہتدي إلیہ العقول من أشراط الساعۃ وعذاب القبر والحشر والنشر والصراط والمیزان والجنۃ والنار)۔

3۔۔۔۔۔۔ (عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) پ۲۹، الجن: ۲۶۔۲۷.

    في ''تفسیر روح البیان''، ج۱۰، ص۲۰۱۔۲۰۲، تحت الآیۃ: (قال ابن شیخ: إنّہ تعالی لا یطلع علی الغیب الذي یختص بہ علمہ إلاّ المرتضی الذي یکون رسولاً، وما لا یختص بہ یطلع علیہ غیر الرسول، إمّا بتوسط الأنبیاء، أو بنصب الدلائل وترتیب المقدمات أو بأن یلہم اللہ بعض الأولیاء وقوع بعض المغیبات في المستقبل بواسطۃ الملک، فلیس مراد اللہ بہذہ الآیۃ أن لا یطلع احداً علی شيء من المغیبات إلاّ الرسل لظہور أنّہ تعالی قد یطلع علی شيء من الغیب غیر الرسل). 

    وفي ''إرشاد الساري''، کتاب التفسیر، تحت الحدیث: ۴۶۹۷: (ولا یعلم متی تقوم الساعۃ أحد إلاّ اللہ إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ، والولي التابع لہ یأخذ عنہ) ج۱۰، ص۳۶۹.
Flag Counter