Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
47 - 278
    عقیدہ (۲۲): انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُلِ ملائکہ سے افضل ہیں۔ (1) ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے، کافر ہے۔ (2) 

    عقیدہ (۲۳): نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔ (3) کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب، کفر ہے۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ) پ۷، الأنعام: ۸۶. 

    في ''تفسیرالخازن''، ج۲، ص۳۳، تحت الآیۃ: (وَکُلاًّ فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ) یعني: علی عالمي زمانھم ویستدلّ بہذہ الآیۃ من یقول: إنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ؛ لأنّ العالم اسم لکلّ موجود سوی اللہ تعالی فیدخل فیہ الملک فیقتضي أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ.

    وفي ''التفسیر الکبیر''، پ۱، البقرۃ، ج۱، ص۴۳۰، تحت الآیۃ: ۳۴: (اعلم أنّ جماعۃ من أصحابنا یحتجون بأمر اللہ تعالی للملائکۃ بسجود آدم علیہ السلام علی أنّ آدم أفضل من الملائکۃ فرأینا أن نذکر ہہنا ہذہ المسألۃ فنقول: قال أکثر أھل السنّۃ: الأنبیاء أفضل من الملائکۃ).

     وفي ''شرح المقاصد''، المبحث السابع، الملائکۃ، ج۳، ص۳۲۰۔۳۲۱: (فذہب جمہور أصحابنا والشیعۃ إلی أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ). 

2۔۔۔۔۔۔ في''منح الروض الأزہر'' ص۱۲۱: (أنّ الولي لا یبلغ درجۃ النبي، فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولي أفضل من النبي کفر وضلالۃ وإلحاد وجہالۃ)، ملتقطاً. 

    وفي''إرشاد الساري''، کتاب العلم، باب ما یستحب للعالم... إلخ، ج۱، ص۳۷۸: (فالنبي أفضل من الولي، وہو أمر مقطوع بہ، والقائل بخلافہ کافر، لأنّہ معلوم من الشرع بالضرورۃ).

    وفي ''الشفائ''، ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ في قولہم: إنّ الأئمۃ أفضل من الأنبیاء).

    وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۵: (إنّ نبیاً واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیائ، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی الکفر بل ہو کافر).

3۔۔۔۔۔۔ (إِنَّا أَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا لِتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُولِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا) پ۲۶، الفتح: ۹. وفي ''جواہر البحار''، ج۳، ص۲۶۰: (إنّ اللہ فرض علینا تعزیر رسولہ، وتوقیرہ وتعزیرہ نصرہ ومنعہ توقیرہ، وإجلالہ وتعظیمہ، وذلک یوجب صون عرضہ بکل طریق بل ذلک أول درجات التعزیر والتوقیر).

4۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۱۰، التوبۃ، ج۳، ص۳۹۴، تحت الآیۃ: ۱۲: (واعلم أنہ قد اجتمعت الأمۃ علی أنّ الاستخفاف بنبینا وبأي نبيکان من الأنبیاء کفر سواء فعلہ فاعل ذلک استحلالاً أم فعلہ معتقداً بحرمتہ لیس بین العلماء خلاف في ذلک... إلخ).
Flag Counter