Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
45 - 278
ہوا اور علمِ عطائی اﷲ عزوجل کے لیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے۔ (1) جو لوگ انبیا بلکہ سیّد الانبیا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں:
( اَفَتُؤْمِنُوۡنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوۡنَ بِبَعْضٍ ۚ ) ـ2ـ
یعنی: ''قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں۔''
1۔۔۔۔۔۔ (وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا إِلَّا ہُوَ) پ۷ الأنعام: ۵۹. 

    قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن في ''الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ''، ص۳۹: (إنّ العلم إمّا ذاتي إن کان مصدرہ ذات العالم لا مدخل فیہ لغیرہ عطاء ولا تسبیبا، وإمّا عطائي إذا کان بعطاء غیرہ. فالأوّل مختص بالمولی سبحانہ وتعالیٰ لا یمکن لغیرہ ومن أثبت شیأاً منہ ولو أدنی من أدنی من أدنی من ذرۃ لأحد من العالمین فقد کفر وأشرک، وبار وھلک. والثاني مختص بعبادہ عز جلالہ لا إمکان لہ فیہ، ومن أثبت شیأاً منہ للہ تعالی فقد کفر، وأتی بما ہو أخنع وأشنع من الشرک الأکبر؛ لأنّ المشرک من یسوي باللہ غیرہ، وھذا جعل غیرہ أعلی منہ حیث أفاض علیہ علمہ وخیرہ.

2۔۔۔۔۔۔ پ۱، البقرۃ: ۸۵.
Flag Counter