Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
44 - 278
زمین و آسمان کا ہر ذرّہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے(1)، مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اﷲ (عزوجل) کے دیے سے ہے، لہٰذا ان کا علم عطائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ زوی لي الأرض فرأیت مشارقھا ومغاربھا))۔

    ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضھم ببعض، الحدیث: ۲۸۸۹، ص۱۵۴۴.

    في ''المرقاۃ''، ج۱۰، ص ۱۵، تحت الحدیث: (إنّ اللہ زوی لي الأرض، أي: جمعھا لأجلي، یرید بہ تقریب البعید منھا حتی اطلع علیہ اطلاعہ علی القریب منھا، وحاصلہ أنّہ طوی لہ الأرض وجعلھا مجموعۃ کھیئۃ کف في مرآۃ نظرہ، ولذا قال: فرأیت مشارقھا ومغاربھا، أي: جمیعھا) ملتقطاً.

    وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((رأیت ربي في أحسن صورۃ، قال:فیم یختصم الملأ الأعلی؟ فقلت: أنت أعلم یا رب، قال: فوضع کفہ بین کتفيّ فوجدت بردھا بین ثدیيّ فعلمت ما في السموات والأرض)). ''سنن الدارمي''، کتاب الرؤیا، باب في رؤیۃ الرب تعالی في النوم، ج۲، ص۱۷۰.

    في ''المرقاۃ''، ج۲، ص۴۲۹، تحت الحدیث: (فعلمت أي: بسبب وصول ذلک الفیض ما في السموات والأرض، یعني: ما أعلمہ اللہ تعالی مما فیھما من الملائکۃ والأشجار وغیرھما، وھو عبارۃ عن سعۃ علمہ الذي فتح اللہ بہ علیہ، وقال ابن حجر: أي: جمیع الکائنات التي في السموات بل وما فوقھا، کما یستفاد من قصۃ المعراج، والأرض ھي بمعنی الجنس، أي: وجمیع ما في الأرضین السبع بل وما تحتھا).

    وفي ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۳۵۷، تحت قولہ: (( فعلمت ما في السموات والأرض)) پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی وکلی واحاطہ آن). 

    ترجمہ: پس جو کچھ آسمان وزمین میں تھا سب کچھ میں نے جان لیا یہ بات تمام علوم کلی وجزئی کو گھیرے ہوئے ہے۔

    اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویۃ'' میں فرماتے ہیں: ''اللہ عزوجل نے روز اَزل سے روز آخر تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے ایک ایک ذرّہ کا تفصیلی علم اپنے حبیب اَکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو عطا فرمایا، ہزار تاریکیوں میں جو ذرّہ یا ریگ کا دانہ پڑا ہے حضور کا علم اس کو محیط ہے، اور فقط علم ہی نہیں بلکہ تمام دنیا بھر اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا اپنی اس ہتھیلی کو ، آسمانوں اور زمینوں میں کوئی ذرّہ ان کی نگاہ سے مخفی نہیں بلکہ یہ جو کچھ مذکور ہے ان کے علم کے سمندروں میں سے ایک چھوٹی سی نہر ہے، اپنی تمام امت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو، اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ  ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں ، دلوں میں جو خطرہ گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں، اور پھر ان کے علم کے وہ تمام سمندر اور جمیع علوم اوّلین وآخرین مل کر علم الہی سے وہ نسبت نہیں رکھتے جو ایک ذرا سے قطرہ کو کرور سمندر وں سے''۔ 

''الفتاوی الرضویۃ''، ج ۱۵، ص۷۴.
Flag Counter