| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
بخلاف ائمہ(1) و اکابر اولیا، کہ اﷲ عزوجل اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔(2)
عقیدہ (۱۷): انبیا علیہم السلام شرک و کفر اور ہرایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب و خیانت و جھل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ(3) سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد ِنبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں۔(4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح المقاصد''، المقصد السادس، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۴: (واحتج أصحابنا علی عدم وجوب العصمۃ بالإجماع علی إمامۃ أبي بکر وعمر وعثمان رضي اللہ عنھم مع الإجماع علی أنّہم لم تجب عصمتہم، وإن کانوا معصومین بمعنی أنّہم منذ آمنوا کان لہم ملکۃ اجتناب المعاصي مع التمکن منھا، وحاصل ھذا دعوی الإجماع علی عدم اشتراط العصمۃ في الإمام).
2۔۔۔۔۔۔ في ''بریقۃ محمودیۃ'' شرح ''طریقۃ محمدیۃ'' ج۲، ص۱: (اعلم أنّہ لا تجب عصمۃ الولي کما تجب عصمۃ النبي لکن عصمتہ بمعنی أن یکون محفوظاً لا تصدر عنہ زلۃ أصلا، ولا امتناع من صدورہا، وقیل للجنید: ھل یزني العارف؟ فأطرق ملیاً ثم رفع رأسہ وقال: (وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُوْرًا) [پ۲۲، الأحزاب: ۳۸]۔
وفي ''الرسالۃ القشیریۃ''، باب الولایۃ، ص۲۹۲: (ومن شرط الولي أن یکون محفوظاً، کما أن من شرط النبي أن یکون معصوماً)۔ وفیہا، باب کرامات الأولیائ، ص۳۸۱: (فإن قیل: ھل یکون الولی معصوماً؟ قیل: أما وجوباً، کما یقال في الأنبیاء فلا، وأما أن یکون محفوظاً حتی لا یصر علی الذنوب إن حصلت ہنات أو آفات أو زلات، فلا یمتنع ذلک في وصفہم، ولقد قیل للجنید: العارف یزني یا أبا القاسم؟ فاطرق ملیاً، ثم رفع رأسہ وقال: وکان أمر اللہ قدراً مقدرواً)۔
في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: في أنّ الإلہام لیس بحجۃ...الخ، ص۴۲۲: (والأولیاء وإن لم یکن لہم العصمۃ لجواز وقوع الذنب منھم ولا ینافیہ الولایۃ، ومن ثم قیل للجنید: أیزني الولي؟ فقال: وکان أمر اللہ قدراً مقدرواً، لکن لہم الحفظ فلا تقع منھم کبیرۃ ولا صغیرۃ غالباً).
3۔۔۔۔۔۔ بُری صفتوں۔
4۔۔۔۔۔۔ في ''روح البیان''، پ۲۳، ج۸، ص۴۵، تحت الآیۃ: ۴۴: (واعلم: أنّ العلماء قالوا: إنّ الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام معصومون من الأمراض المنفرۃ).
في ''الحدیقۃ الندیۃ'' علی ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج۱، ص۲۸۸:(وہم) أي: الأنبیاء والرسل علیہم السلام کلہم (مبرؤون عن الکفر) باللہ تعالی (و)عن (الکذب مطلقاً)، أي: قبل النبوۃ وبعدہا العمد من ذلک والسہو والکذب علی اللہ تعالی وعلی غیرہ في الأمور الشرعیۃ والعادیۃ، (و) مبرؤون (عن الکبائر) من الذنوب (و)عن (الصغائر) منھا أیضاً (المنفرۃ) نعت للصغائر أي: التي تنفر غیرہم من أتباعہم (کسرقۃ لقمۃ) من المأکولات (وتطفیف) أي: تنقیص (حبۃ) من الحبوب التي