| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
کوئی بات اِلقا ہوتی ہے، اُس کو اِلہام کہتے ہیں(1) اور وحی شیطانی کہ اِلقا من جانبِ شیطان ہو، یہ کاہن، ساحر اور دیگر کفّار وفسّاق کے لیے ہوتی ہے۔(2)
عقیدہ (۱۴): نبوّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و رِیاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے(3)، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے، کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے، ہاں! دیتا اُسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبلِ حصولِ نبوّت تمام (فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَآءَ اللہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ). پ۲۳، الصافات:۱۰۲.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ: عن قتادۃ، قولہ: (( یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ) قال: رؤیا الأنبیاء حق إذا رأوا في المنام شیأا فعلوہ). وعن عبید بن عمیر، قال: (رؤیا الأنبیاء وحيٌ، ثم تلا ہذہ الآیۃ:( إِنِّی أَرٰی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ). ج۱۰، ص۵۰۷.
1۔۔۔۔۔۔ في''المرقاۃ''، کتاب العلم،ج۱،ص۴۴۵:(والإلہام لغۃ: الإبلاغ، وہو علم حق یقذفہ اللہ من الغیب في قلوب عبادہ).
2۔۔۔۔۔۔ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) پ۷، الأنعام: ۱۱۲. في ''تفسیر الطبري''، ج۵، ص۳۱۴، تحت الآیۃ: (أمّا قولہ: (یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا)، فإنّہ یعني أنّہ یلقي الملقي منھم القولَ، الذي زیّنہ وحسَّنہ بالباطل إلی صاحبہ، لیغترّ بہ من سمعہ، فیضلّ عن سبیل اللہ).
وعن السدي في قولہ: (یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا)، قال: للإنسان شیطان، وللجنّي شیطان، فیلقَی شیطان الإنس شیطان الجن، فیوحي بعضھم إلی بعض زخرف القول غرورًا).
(ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) پ۱۹، الشعرائ: ۲۲۲.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، عن قتادۃ، في قولہ: (کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) قال: ہم الکہنۃ تسترق الجن السمع، ثم یأتون بہ إلی أولیائہم من الإنس).ج۹، ص۴۸۷..
في ''تفسیر ابن کثیر''، تحت الآیۃ:(ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ) أي: أخبرکم(عَلَی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) أي: کذوب في قولہ وہو الأفاک (الأثیم) وہو الفاجر في أفعالہ.فھذا ہو الذي تنزل علیہ الشیاطین من الکہان وما جری مجراہم من الکذبۃ الفسقۃ، فإنّ الشیاطین أیضاً کذبۃ فسقۃ). ج۶، ص۱۵۵.
3۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۷: (النبوۃ لیست کسبیۃ).
وفي ''الیواقیت والجواہر''، ص۲۲۴: (لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل إلیہا بالنسک والریا ضات کما ظنّہ جماعۃ من الحمقی، فإنّ اللہ تعالی حکی عن الرسل بقولہ: (قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ إِنْ نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰـکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ)، پ ۱۳، ابراہیم:۱۱، فالنبوۃ إذن محض فضل اللہ تعالی)، ملتقطاً.