| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۱۲): قرآن کی بعض باتیں مُحکَم ہیں کہ ھماری سمجھ میں آتی ہیں اور بعض متشابہ کہ اُن کا پورا مطلب اﷲ اور اﷲ کے حبیب (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم) سوا کوئی نہیں جانتا۔ متشابہ کی تلاش اور اُس کے معنی کی کِنْکاش وہی کرتا ہے جس کے دل میں کجی(1) ہو۔(2)
عقیدہ (۱۳): وحیئ نبوت، انبیا کے لیے خاص ہے (3) ، جو اسے کسی غیرِ نبی کے لیے مانے کافر ہے۔ (4) نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اُس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔(5) ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یا جاگتے میںوإنّما ہو بیان مدتہ عندنا وعند المحققین). في ''تفسیر الصاوي''، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ج۱، ص۹۸: النسخ : بیان انتھاء حکم التعبد۔ اعلیٰ حضرت امام اھلسنت فتاویٰ رضویہ ، ج۱۴، ص۱۵۶میں فرماتے ہیں: ''نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی'' ۔
انظر للتفصیل: ''الإتقان في علوم القرآن'' للسیوطي، النوع ۴۷ في ناسخہ ومنسوخہ، ج۲، ص۳۲۶.
1۔۔۔۔۔۔ ٹیڑھا پن۔
2۔۔۔۔۔۔ (ہُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُّحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِیْ قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَأْوِیلِہِ وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلَّا اللہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُوالْأَلْبَابِ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۷.
في ''نور الأنوار''، ص۹۷: (أنّ المراد بہ (أي: بالمتشابہ) حق وإن لم نعلمہ قبل یوم القیامۃ، وأمّا بعد القیامۃ فیصیر مکشوفاً لکل أحد إن شاء اللہ تعالیٰ، وھذا في حق الأمۃ، وأمّا في حق النبي علیہ السلام فکان معلومًا وإلاّ تبطل فائدۃ التخاطب ویصیر التخاطب بالمہمل کالتکلم بالزنجي مع العربي وھذا عندنا).
وفي ''شرح الحسامي''، ص۲۱: (فالمتشابہ کرجل فقد عن الناس حتی انقطع أثرہ وانقضی جیرانہ وأقرانہ، (وحکمہ التوقف فیہ أبدًا) في حقنا، لأنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلم المتشابہات کما صرح بہ فخر الإسلام في ''أصولہ''.
3۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۵: (الوحي قسمان: وحي نبوۃ، ویختص بہ الأنبیاء دون غیرہم).
4۔۔۔۔۔۔ في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء ۲، ص۲۸۵: (من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب إلی مرتبتہا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذلک من ادعی منھم أنّہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ أو أنّہ یصعد إلی السماء ویدخل الجنۃ ویأکل من ثمارہا ویعانق الحور العین فہؤلاء کلہم کفار مکذبون للنبي صلی اللہ علیہ وسلم؛ لأنّہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ).
5۔۔۔۔۔۔ (إِذْ قَالَ یُوسُفُ لِأَبِیہِ یَا أَبَتِ إِنِّیْ رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَیْتُہُمْ لِیْ سَاجِدِینَ) پ۱۲، یوسف:۴.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، عن ابن عباس في قولہ: ((إِنِّیْ رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَیْتُہُمْ لِیْ سَاجِدِیْنَ)، قال: کانت رؤیا الأنبیاء وحیًا). ج۷، ص۱۴۸..