Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
34 - 278
    عقیدہ (۱۰): قرآنِ مجید نے اگلی کتابوں کے بہت سے احکام منسو خ کر دیے۔(1) یو ہیں قرآنِ مجید کی بعض آیتوں نے بعض آیت کو منسوخ کر دیا۔(2) 

    عقیدہ (۱۱): نَسخْ کا مطلب یہ ہے کہ بعض احکام کسی خاص وقت تک کے لیے ہوتے ہیں، مگر یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ یہ حکم فلاں وقت تک کے لیے ہے، جب میعاد پوری ہوجاتی ہے تو دوسرا حکم نازل ہوتا ہے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھلا حکم اُٹھا دیا گیا اور حقیقۃً دیکھا جائے تو اُس کے وقت کا ختم ہو جانا بتایا گیا۔(3) منسوخ کے معنی بعض لوگ باطل ہونا کہتے ہیں، یہ بہت سخت بات ہے، احکامِ الٰہیہ سب حق ہیں، وہاں باطل کی رسائی کہاں...!
1۔۔۔۔۔۔ (أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ) [پ۲، البقرۃ: ۱۸۷]۔ 

    في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱، ص۲۴۱، تحت الآیۃ: (قولہ تعالی: (أُحِلَّ لَکُمْ) لفظ: (أُحِلَّ) یقتضی أنہ کان محرماً قبل ذلک ثم نسخ، روی أبو داود عن ابن أبي لیلی قال: وحدثنا أصحابنا قال: وکان الرجل إذا أفطر فنام قبل أن یأکل لم یأکل حتی یصبح، قال: فجاء عمر فأراد امرأتہ فقالت: إني قد نمت، فظن أنہا تعتل فأتاہا، فجاء رجل من الأنصار فأراد طعاماً فقالوا: حتی نسخن لک شیأاً فنام، فلما أصبحوا أنزلت ہذہ الآیۃ، وفیہا: (أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ)۔

2۔۔۔۔۔۔ (یَاأَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا إِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّـکُمْ وَأَطْہَرُ فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَإِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیمٌ)۔ [پ۲۸، المجادلۃ: ۱۲]۔

    في ''روح البیان''، المجادلۃ، تحت الآیۃ، الجزء الثامن والعشرون، ج۹، ص۴۰۵: (والآیۃ نزلت حین أکثر الناس علیہ السؤال حتی أسأموہ وأملوہ فأمرہم اللہ بتقدیم الصدقۃ عند المناجاۃ فکف کثیر من الناس، أما الفقیر فعلسرتہ، وأما الغني فلشحہ وفی ھذا الأمر تعظیم الرسول ونفع الفقرآء والزجر عن الإفراط في السؤال والتمییز بین المخلص والمنافق ومحب الآخرۃ ومحب الدنیا واختلف في أنہ للندب أو للوجوب لکنہ نسخ بقولہ تعالی: (أَأَشْفَقْتُمْ) الآیۃ۔۔۔ إلخ)۔

    وفي ''روح المعاني''، الجزء الثامن والعشرین، ج۱۴، ص۳۱۴۔۳۱۵۔

    (وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ ) [پ۳، البقرۃ: ۲۴۰]۔

    في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۲، ص۱۱۳، تحت الآیۃ: (وأکثر العلماء علی أن ہذہ الآیۃ ناسخۃ لقولہ عز وجل: (وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ) لأنّ الناس أقاموا برہۃ من الاسلام إذا توفی الرجل وخلف امرأتہ حاملا أوصی لہا زوجہا بنفقۃ سنۃ وبالسکنی ما لم تخرج فتتزوج، ثم نسخ ذلک بأربعۃ أشہر وعشر، وبالمیراث)۔

3۔۔۔۔۔۔ قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، ص۵۵: (والمطلق یکون في علم اللہ مؤبداً أو مقیداً، وھذا الأخیر ہو الذي یأتیہ النسخ فیظن أنّ الحکم تبدل؛ لأنّ المطلق یکون ظاہرہ التأبید حتی سبق إلی بعض الخواطر أنّ النسخ رفع الحکم
Flag Counter