Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
33 - 278
    عقیدہ (۹): قرآنِ عظیم کی سات قرائتیں سب سے زیادہ مشہور اور متواتر ہیں(1)، ان میں معاذ اﷲ کہیں اختلافِ معنی نہیں(2)، وہ سب حق ہیں، اس میں اُمّت کے لیے آسانی یہ ہے کہ جس کے لیے جو قراء ت آسان ہو وہ پڑھے (3) اور حکم یہ ہے کہ جس ملک میں جو قراء ت رائج ہے عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے، جیسے ھمارے ملک میں قرا ء تِ عاصم بروایتِ حفص، کہ لوگ ناواقفی سے انکار کریں گے اور وہ معا ذ اﷲ کلمہ کفر ہوگا۔ (4)
    في ''تفسیرالخازن''، ج۴، ص۲۰۴، تحت الآیۃ:(وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ) أي: سھلنا القرآن ( لِلذِّکْرِ)أي: لیتذکر ویعتبر بہ، قال سعید بن جبیر: یسرناہ للحفظ والقراء ۃ ولیس شيء من کتب اللہ تعالی یقرأ کلہ ظاہراً إلاّ القرآن، (فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ) أي: متعظ بمواعظہ، وفیہ الحث علی تعلیم القرآن والاشتغال بہ؛ لأنّہ قد یسرہ اللہ وسھلہ علی من یشاء من عبادہ بحیث یسھل حفظہ للصغیر والکبیر والعربي والعجمي وغیرہم).

    اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ ''میں فرماتے ہیں: کچھ عجب نہیں کہ مولیٰ عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو عطافرمائے اگلی امتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کے لیے انہیں عام فرمادے جیسے: کتاب اللہ کا حافظ ہونا کہ اممِ سابقہ میں خاصہ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس امت کے لے رب عزوجل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس برس کے بچے حافظ ہوتے ہیں اور ھمارے مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فضل ظاہر کہ انکی امت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملا کرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۵، ص۶۷. 

1۔۔۔۔۔۔ عن ابن مسعود رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف، لکل آیۃ منھا ظہر وبطن، ولکل حد مطلع)).''مشکاۃ المصابیح''، کتاب العلم، الحدیث:۲۳۸، ج۱، ص۱۱۳.

    في ''المرقاۃ''، ج۱، ص۴۹۹، تحت ھذا الحدیث: (قال ابن حجر: الجملۃ الأولی جاء ت من روایۃ أحد وعشرین صحابیًا، ومن ثم نص أبو عبید علی أنّہا متواترۃ أي: معنیً).

2۔۔۔۔۔۔ في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۶۹۲، تحت الحدیث:۲۵۱۲: ((إنّ ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف)) أي: سبع لغات أوسبعۃ أوجہ من المعاني المتفقۃ بألفاظ مختلفۃ أو غیر ذلک). 

3۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إن ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف فاقرء وا ما تیسر منہ)) ملتقطاً.''صحیح مسلم''، باب بیان أن القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۸۱۸، ص۴۰۸.

4۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القرآۃ، ج۲، ص۳۲۰: (ویجوز بالروایات السبع، لکن الأولی أن لا یقرأ بالغریبۃ عند العوام صیانۃ لدینھم). وفي ''رد المحتار'' تحت قولہ: (بالغریبۃ) أي: بالروایات الغریبۃ والإمالات؛ لأن بعض السفہاء یقولون ما لا یعلمون فیقعون في الإثم والشقائ، ولا ینبغي للأئمۃ أن یحملوا العوام علی ما فیہ نقصان دینھم، ولا یقرأ عندہم مثل قراء ۃ أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزۃ والکسائي صیانۃ لدینھم فلعلہم یستخفون أو یضحکون وإن کان کل القراء ات والروایات صحیحۃ فصیحۃ، ومشایخنا اختاروا قراء ۃ أبي عمرو وحفص عن عاصم).
Flag Counter