Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
32 - 278
آیت کا انکار کیا جو ہم نے ابھی لکھی۔ (1) 

    عقیدہ (۸): قرآنِ مجید، کتابُ اﷲ ہونے پر اپنے آپ دلیل ہے کہ خود اعلان کے ساتھ کہہ رہا ہے:
    ( وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ ۪ وَادْعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا وَلَنۡ تَفْعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚۖ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۴﴾ )۔ـ2ـ
    ''اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے سب سے خاص بندے ( محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر اُتاری کوئی شک ہو تو اُس کی مثل کوئی چھوٹی سی سُورت کہہ لاؤ اور اﷲ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کوبلالو اگر تم سچے ہو تو اگر ایسا نہ کرسکو اور ہم کہے دیتے ہیں ہرگز ایسا نہ کر سکو گے تو اُس آگ سے ڈرو! جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔'' 

    لہٰذا کافروں نے اس کے مقابلہ میں جی توڑ کوششیں کیں، مگر اس کی مثل ایک سطر نہ بنا سکے نہ بناسکیں۔ (3) 

    مسئلہ : اگلی کتابیں انبیا ہی کو زبانی یاد ہوتیں(4)، قرآنِ عظیم کا معجزہ ہے کہ مسلمانوں کا بچہّ بچہّ یاد کر لیتا ہے۔ (5)
1۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأزہر''، فصل في القراء ۃ والصلاۃ، ص۱۶۷:(من جحد القرآن، أي:کلہ أو سورۃ منہ أو آیۃ، قلت: وکذا کلمۃ أو قراء ۃ متواترۃ، أو زعم أنّہا لیست من کلام اللہ تعالی کفر، یعني: إذا کان کونہ من القرآن مجمعاً علیہ مثل البسملۃ في سورۃ النمل، بخلاف البسملۃ في أوائل السور، فإنّہا لیست من القرآن عند المالکیۃ علی خلاف الشافعیۃ، وعند المحققین من الحنفیۃ أنّہا آیۃ مستقلۃ أنزلت للفصل). في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۹: (وکذلک کافر من أنکر القرآن أو حرفاً منہ أو غیّر شیأاً منہ أو زاد فیہ)، ملخصاً.

''الفتاوی الرضویۃ'' ، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۵۹۔۲۶۲. 

2۔۔۔۔۔۔ پ۱، البقرۃ: ۲۳۔۲۴. 

3۔۔۔۔۔۔ في''النبراس''، الدلائل علی نبوۃ خاتم الأنبیاء علیہ السلام، ص۲۷۵:(فإنّ اللہ تعالی دعاہم أوّلاً لمعارضۃ جمیعہ حیث قال:(فَلْیَأْتُوْا بِحَدِیثٍ مِّثْلِہٖ)ثم قال:(فَأْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ) ثم قال:(فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ)، فعجزوا عن الکل (مع تہالکہم علی ذلک) أي: حرصہم علی المعارضۃ).

4۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآیۃ ۴۹: (قال الکاشفي: یعني: کونہ محفوظاً في الصدور من خصائص القرآن؛ لأنّ من تقدم کانوا لا یقرؤون کتبہم إلاّ نظراً، فإذا أطبقوہا لم یعرفوا منھا شیئًا سوی الأنبیاء) ج۶، ص۴۸۱. 

5۔۔۔۔۔۔ (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ) پ۲۷، القمر:۱۷.
Flag Counter