| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
''اﷲ (عزوجل) اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ھمارا ایمان ہے۔'' (1)
عقیدہ (۷): چونکہ یہ دین ہمیشہ رہنے والا ہے، لہٰذا قرآنِ عظیم کی حفاظت اﷲ عزوجل نے اپنے ذِمّہ رکھی، فرماتا ہے:اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ ) ـ2ـ
''بے شک ہم نے قرآن اُتارا اور بے شک ہم اُـس کے ضرور نگہبان ہیں۔''
لہٰذا اس میں کسی حرف یا نقطہ کی کمی بیشی محال ہے، اگرچہ تمام دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے تو جو یہ کہے کہ اس میں کے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں بلکہ ایک حرف بھی کسی نے کم کر دیا، یا بڑھا دیا، یا بدل دیا، قطعاً کافر ہے، کہ اس نے اُس1۔۔۔۔۔۔ ( وَلَا تُجَادِلُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا بِالَّذِی أُنْزِلَ إِلَیْنَا وَأُنْزِلَ إِلَیْکُمْ وَإِلٰـہُنَا وَإِلٰـہُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ) پ۲۱، العنکبوت: ۴۶۔
في ''تفسیر ابن کثیر''، ج۶، ص۲۵۶، تحت ہذہ الآیۃ: (أن أبا نَمْلَۃَ الأنصاري أخبرہ، أنہ بینما ہو جالس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جاء ہ رجل من الیہود، فقال: یا محمد، ھل تتکلم ہذہ الجنازۃ؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللہ أعلم))، قال الیہودي: أنا أشہد أنہا تتکلم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا حدثکم أھل الکتاب فلا تصدقوہم ولا تکذبوہم، وقولوا: آمنا باللہ وکتبہ ورسلہ، فإن کان حقًّا لم تکذبوہم، وإن کان باطلاً لم تصدقوہم)))۔
في ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب (قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا)، الحدیث: ۴۴۸۵، ج۳، ص۱۶۹:
عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: کان أھل الکتاب یقرء ون التوراۃ بالعبرانیۃ ویفسرونہا بالعربیۃ لأھل الإسلام، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تصدقوا أھل الکتاب ولا تکذبوہم وقولوا: (آمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا)))۔
و''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول، الحدیث: ۱۵۵، ج۱، ص۵۱۔
في ''المرقاۃ'' للقاریئ، ج۱، ص۳۹۱، تحت ھذا الحدیث: (قال رسول اللہ: ((لا تصدقوا)) أي: فیما لم یتبین لکم صدقہ لاحتمال أن یکون کذباً وہو الظاہر أن أحوالہم ((أھل الکتاب)) أي: الیہود والنصاری؛ لأنھم حرّفوا کتابہم ((ولا تکذبوہم)) أي: فیما حدثوا من التوراۃ والإنجیل ولم یتبین لکم کذبہ لاحتمال أن یکون صدقاً وإن کان نادراً؛ لأنّ الکذوب قد یصدق وفیہ إشارۃ إلی التوقف فیما أشکل من الأمور والعلوم۔
2۔۔۔۔۔۔ پ۱۴، الحجر: ۹.