Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
30 - 278
    عقیدہ (۶): سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اور سب کلام اﷲ ہیں، اُن میں جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضروری ہے(1) ، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ اگلی کتابوں کی حفاظت اﷲ تعالیٰ نے اُمّت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حفظ نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں ویسا باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تحریفیں کر دیں، یعنی اپنی خواہش کے مطابق گھٹا بڑھا دیا۔ (2) 

    لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ھمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ھماری کتاب کے مطابق ہے، ہم اُس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تحر یفات سے ہے اور اگر موافقت، مخالفت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:
    وفي''النبراس''، بیان الکتب المنزلۃ، ص ۲۹۱:(أنّ القرآن کلام واحد)، أي: في درجۃ واحدۃ من الفضیلۃ (لا یتصور فیہ تفضیل)، من حیث إنّہ کلام اللہ سبحانہ؛ لأنّ ھذا الشرف یعم الآیات والسور کلہا (ثم باعتبار القراء ۃ والکتابۃ یجوز أن یکون بعض الصور أفضل کما ورد في الحدیث، وحقیقۃ التفضیل أنّ قراء تہ أفضل لما أنّہ أنفع) من حیث کثرۃ الثواب والنجات من المکروہات)، ملتقطاً.

1۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، پ۳، البقرۃ: ۲۸۵،ج۱، ص۲۲۵: (الإیمان بکتبہ فہو أن یؤمن بأنّ الکتب المنزلۃ من عند اللہ ہي وحي اللہ إلی رسلہ، وأنّہا حق وصدق من عند اللہ بغیر شک ولا ارتیاب). 

    في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۹۴:((وَمَا أُوْتِیَ مُوْسٰی) یعني التوراۃ (وَعِیْسٰی) یعني الإنجیل( وَمَا أُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ) والمعنی آمنّا أیضاً بالتوراۃ والإنجیل والکتب التي أوتي جمیع النبیین وصدّقنا أنّ ذلک کلہ حق وہدی ونور وأنّ الجمیع من عند اللہ). 

2۔۔۔۔۔۔ (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَـہ، لَحَافِظُوْنَ) پ۱۴، الحجر:۹.

     في''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: ((وَإِنَّا لَـہ، لَحَافِظُوْنَ) الضمیر في: (لَـہ،) یرجع إلی الذکر یعني، وإنّا للذکر الذي أنزلناہ علی محمد لحافظون یعني من الزیادۃ فیہ، والنقص منہ والتغییر والتبدیل والتحریف، فالقرآن العظیم محفوظ من ہذہ الأشیاء کلہا لا یقدر أحد من جمیع الخلق من الجن والإنس أن یزید فیہ، أو ینقص منہ حرفاً واحداً أو کلمۃ واحدۃ، وھذا مختص بالقرآن العظیم بخلاف سائر الکتب المنزلۃ فإنّہ قد دخل علی بعضہا التحریف والتبدیل والزیادۃ والنقصان ولما تولی اللہ عزوجل حفظ ھذا الکتاب بقي مصوناً علی الأبد محروساً من الزیادۃ والنقصان)، ج۳، ص۹۵.
Flag Counter