1۔۔۔۔۔۔ (وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ) پ۲۵، الشوری: ۵۱۔
في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۶: (قال السنوسي في ''شرح الجزائریۃ'': مرجع النبوۃ عند أھل الحقّ إلی اصطفاء اللہ تعالی عبدًا من عبادہ بالوحي إلیہ، فالنبوۃ اختصاص بسماع وحي من اللہ بواسطۃ الملک أو دونہ).
وفي ''نسیم الریاض''، القسم الأول في تعظیم العلی الأعلی لقدر النبي ، ج۳، ص۳۴۴: (''والإعلام'' من اللہ تعالی ''بخواص النبوۃ'' أي: ما یختص بالنبوۃ الشاملۃ للرسالۃ کالعصمۃ والوحي بواسطۃ الملک، أو بدونہا۔
2۔۔۔۔۔۔ في ''تکمیل الإیمان''، ص۶۳: (''ولہ کتب أنزلہا علی رسلہ''، حق سبحانہ وتعالی را کتابہا ست کہ بر بعضی پیغمبران فرستادہ دیگر آن را بمتابعت۔۔۔۔۔۔ وازمیان کتابہا نیز چہار کتاب اعظم واشہر است،، ''منھا التوراۃ'' یکی زان کتابہای آسمانی توریت است کہ بر موسی علیہ السلام منزل شدہ، ''والزبور'' دیگر زبور است کہ بر داؤد علیہ السلام نزول یافتہ، ''والإنجیل'' کہ بر عیسی علیہ السلام فرو دآمدہ۔۔۔۔۔۔، ''والقرآن العظیم'' زبدہ وخلاصہ جمیع کتب سماوی قرآن مجید وفرقان عظیم است کہ بر سید رسل وخاتم الأنبیاء علیہ من الصلاۃ افضلہا والتحیات اکملہا)، ملتقطاً.
یعنی: حق تبارک وتعالیٰ کی کتابیں ہیں جن کو اس نے اپنے بعض رسولوں پر نازل فرمایا اور دوسروں کو ان کی پیروی کا حکم دیا، ان میں سے چار کتابیں بڑی اور بہت مشہورہیں، ان میں سے ایک تورات ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ دوسری زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی، تیسری انجیل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی، اور چوتھی قرآن مجید فرقان عظیم ہے جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہے اور سب سے افضل رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ ,
3۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵: (من أجاز تفضیل بعض القرآن علی بعض من العلماء والمتکلمین قالوا: ھذا التفضیل راجع إلی عظم أجر القاریئ أو جزیل ثوابہ وقول: إنّ ہذہ الآیۃ أو ہذہ السورۃ أعظم أو أفضل بمعنی أنّ الثواب المتعلق بہا أکثر وھذا ہو المختار)، ج۱، ص۱۹۵.