Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
276 - 278
    مسئلہ (۱۰): اِنھیں ایصالِ ثواب، نہایت مُوجبِ برکات و امرِ مستحب ہے، اِسے عُرفاً براہِ ادب نذر و نیاز کہتے ہیں، یہ نذرِ شرعی نہیں جیسے بادشاہ کو نذر دینا(1)، اِن میں خصوصاً گیارھویں شریف کی فاتحہ نہایت عظیم برکت کی چیز ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بولنا سننا سمجھنا آناجانا چلنا پھرنا سب بدستور رہتے ہیں بلکہ اس کی قوتیں بعد مرگ اور صاف وتیز ہوجاتی ہیں حالت حیات میں جو کام ان آلات خاکی یعنی آنکھ کان ہاتھ پاؤں زبان سے لیتے تھے اب بغیر ان کے کرتی ہے اگرچہ جسم مثالی کی یاد آوری سہی، ہر چند اس مطلب نفیس کے ثبوت میں وہ بیشمار احادیث وآثار سب حجۃ کافیہ دلائل شافیہ جن میں...إلخ)۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۷۰۳.

    انظر للتفصیل: الرسالۃ ''حیات الموات في بیان سماع الأموات''، ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹. 

1۔۔۔۔۔۔ في ''جد الممتار''، (حاشیۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن علی ''ردّ المحتار'') ج۳، ص۲۸۵: (إنّ النذور لہم بعد تجافیہم عن الدنیا کالنذور لہم وہم فیہا، وہي شائعۃٌ بین المسلمین، والعلماء، والصلحائ، والأولیاء منذ قدیم، ولیس نذراً مصطلح الفقہ، وقد بیّناہ في ''فتاوی أفریقہ''۔

    في ہامش ''جد الممتار''، ج۳، ص۲۸۵۔۲۸۷: قولہ: (وقد بیّناہ في ''فتاوی أفریقہ'')، وإلیکم تلخیص کلامہ في الفتاوی المذکورۃ:

    (لا یجوز النذر الفقہي لغیر اللہ تعالی وما یقدّم إلی الأولیاء الکرام ویسمّی بالنذر لیس بنذر فقہي بل العرف جارٍ بأنّ ما یقدّم إلی حضرات الأکابر من الہدایا یسمّونہ بالنذر یقولون: أقام الملک مجلسہ وقدّم الناس إلیہ النذور.

    کتب الشاہ رفیع الدین أخو الشاہ عبد العزیز المحدّث الدھلوي في ''رسالۃ النذور'' بالفارسیّۃ ما معناہ: النذر الذي یطلق ہنا لیس علی المعنی الشرعي؛ لأنّ العرف جارٍ بأنّ ما یقدّم إلی الأولیاء یسمّی بالنذر. 

    قال الإمام الأجلّ سیّدي عبد الغنيّ النابلسيّ قدّس سرّہ في ''الحدیقۃ الندیۃ'': (ومن ھذا القبیل زیارۃ القبور، والتبـرّک بضرائح الأولیاء والصّالحین، والنذر لہم بتعلیق ذلک علی حصول شفائ، أو قدوم غائب، فإنّہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین لقبورہم، کما قال الفقہاء في من دفع الزکاۃ لفقیرٍ وسمّاہا قرضاً صحّ؛ لأنّ العبرۃ بالمعنَی لا باللفظ۔ 

''الحدیقۃ الندیۃ''، الخلق الثامن والأربعون، ج۲، ص۱۵۱.

    ومن البیّن: أنّہ لو کان نذراً فقہیّاً لَم یجز للأحیاء أیضاً، مع أنّ العرف والعمل یجري من قدیم في الصالحین وأکابر الدّین في الحالتین أي: حالۃ الحیاۃ وبعد الموت.

    بعد ھذا التمہید عرض الإمام أحمد رضا شواہد کثیرۃ علی أنّ الأولیاء والعلماء یستعملون لفظ النذر لِما یقدّم إلی الأکابر من الہدایا۔ فأورد عشر عبارات وحکایات من ''بہجۃ الأسرار'' ونصّاً من ''طبقات الشافعیۃ الکبری'' للإمام العارف باللہ سیدی عبد الوہاب الشعراني وعبارتین للشاہ وليّ اللہ الدھلوي من کتابہ ''أنفاس العارفین'' وعبارۃ للشاہ عبد العزیز المحدّث الدھلوي من کتابہ ''تحفۃ الاثنا عشریۃ''، و''بہجۃ الأسرار'' في مناقب سیّدنا الشیخ عبد القادر الجیلاني للإمام الأجل سیّدي
Flag Counter