ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''فتاویٰ رضویہ'' میں ہے: ''زیارتِ قبور سنت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ((ألا فزوروہا فإنّہا تزہّدکم في الدنیا وتذکّرکم الآخرۃ))، [''سنن ابن ماجہ''، ج۲، ص۲۵۲، الحدیث: ۱۵۷۱، ''المستدرک''، ج۱، ص۷۰۸۔۷۰۹، الحدیث: ۱۴۲۵۔۱۴۲۸]، سن لو! قبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔ خصوصاً زیارتِ مزاراتِ اولیائے کرام کہ ُموجبِ ہزاراں ہزار برکت وسعادت ہے، اسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکار ،ابنِ تیمیہ کا فضلہ خوار۔وہاں جاھلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلئے ہیں وہ ضرور ناجاءز ہیں ، مگر ان سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی ۔جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنا، رکوع وسجود صحیح نہ کرنا، طہارت ٹھیک نہ ہونا عام عوام میں جاری وساری ہے اس سے نماز بُری نہ ہو جائیگی''۔ ''فتاویٰ رضویہ''، ج۲۹، ص۲۸۲۔
2۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر روح البیان''، ج۳، ص۴۳۹: قال الإمام الإسماعیل حقي رحمۃ اللہ تعالی علیہ: (أجساد الأنبیاء والأولیاء والشہداء لا تبلی ولا تتغیر لما أنّ اللہ تعالی قد نفی أبدانھم من العفونۃ الموجبۃ للتفسخ وبرکۃ الروح المقدس إلی البدن کالإکسیر).
اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویۃ''، میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اھلسنت کے نزدیک انبیاء وشہداء علیہم التحیۃ والثناء اپنے ابدان شریفہ سے زندہ ہیں بلکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے ابدان لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں کہ وہ ان کو کھائے اسی طرح شہداء واولیاء علیہم الرحمۃ والثناء کے ابدان وکفن بھی قبور میں صحیح وسلامت رہتے ہیں وہ حضرات روزی ورزق دئے جاتے ہیں۔
اور شیخ الہند محدث دھلوی علیہ الرحمۃ شرح ''مشکوٰۃ ''میں فرماتے ہیں: اولیائے خدائے تعالی نقل کر دہ شدہ اند ازیں دار فانی بدار بقا وزندہ اند نزد پر وردگار خود، ومرزوق اند وخوشحال اند، ومردم را ازاں شعور نیست).
یعنی: اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے وہ خوش حال ہیں اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔
اور علامہ علی قاری شرح ''مشکوٰۃ'' میں لکھتے ہیں: (لا فرق لہم في الحالین ولذا قیل: أولیاء اللہ لا یموتون ولکن ینتقلون من دار إلی دار ...إلخ)، ملتقطا. ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۴۳۱۔۴۳۳.
3۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ''، میں ارشاد فرماتے ہیں: نوع اول: بعد موت بقائے روح وصفات وافعال روح میں ۔ یہاں وہ حدیثیں مذکور ہوں جن سے ثابت کہ روح فنا نہیں ہوتی اور اس کے افعال وادراکات جیسے دیکھنا