| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
مسئلہ (۱۱): عُرسِ اولیائے کر ام یعنی قرآن خوانی، و فاتحہ خوانی، و نعت خوانی، و وعظ، و ایصالِ ثواب اچھی چیز ہے۔ رہے مَنہیاتِ شرعیہ(1) وہ تو ہر حالت میں مذموم ہیں اور مزاراتِ طیبہ کے پاس اور زیادہ مذموم۔
تنبیہ: چونکہ عموماً مسلمانوں کو بحمدہٖ تعالیٰ اولیائے کرام سے نیاز مندی اور مشائخ کے ساتھ اِنھیں ایک خاص عقیدت ہوتی ہے، اِن کے سلسلہ میں منسلک ہونے کو اپنے لیے فلاحِ دارَین تصوّر کرتے ہیں، اس وجہ سے زمانہ حال کے وہابیہ نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ جال پھیلا رکھا ہے کہ پیری، مریدی بھی شروع کر دی، حالانکہ اولیا کے یہ منکر ہیں، لہٰذا جب مرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر بد مذہب ہوا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست(2)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
أبي الحسن نور الملّۃ والدین علي بن یوسف بن جریر اللخمي الشطنوفي الذی لقّبہ إمام فنّ الرجال شمس الدین الذہبي في کتابہ ''طبقات القراء '' والإمام الجلیل جلال الدین السیوطي في کتابہ ''حسن المحاضرۃ''بـ ''الإمام الأوحد''.
وکتابہ ''بہجۃ الأسرار'' یتناول الوقائع والحکایات وکلّ ما ینتمي إلی سیّدنا الشیخ عبد القادر الجیلاني بالأسانید الصحیحۃ المعتبرۃ علی منہج المحدّثین وجمیل طریقہم في تنقیح الأخبار والآثار.
وفي ہذہ العبارات والنصوص ما یدلّ علی أنّ الأولیاء کان طریقہم إطلاق النذر لِما یقدّم إلیہم، کما یدلّ أنّ قبولہ کان من دأبہم، وفیہا ما یشہد أنّ تقدیم النذور إلی أرواحہم وضرائحہم وطلب الحوائج من قوّاتہم الروحانیّۃ کان من أعمالہم، والشاہ ولي اللہ الدھلوي والشّاہ عبد العزیز الدھلوي الذین تعدّھما الفرقۃ المنکرۃ لنذر الأولیاء وطلب الحاجات منھم إمامین، وتمثّلھما کقدوۃ لہا، في عباراتھما أیضاً صراحۃ جلیّۃ بطلب الحاجات من الأولیاء بعد وفاتہم وتقدیم النذور إلیہم بعد مماتہم أفہولاء الأجلّۃ من العصور القدیمۃ کلّہم یرتکبون المحظور ویقعون في الإشراک باللہ ویجمعون علی الآثام والقبائح؟ کلاّ! لن یکون ذلک أبداً، بل ھذا یجلّي الفرق بین النذر الفقہيّ ونذر الأولیاء العرفيّ، فالنذر الفقہي لا یجوز إلاّ للہ تعالی، والنذر العرفيّ الذي أصلہ تقدیم الہدیۃ إلی الأکابر یجوز للصالحین والأولیاء بعد وفاتہم أیضاً کما یجوز في حیاتہم۔ ۱۲).
(محمّد أحمد الأعظمي المصباحي).
1۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ افعال جو شرعاً منع ہیں۔
2۔۔۔۔۔۔ کبھی ابلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے، لہٰذا ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیناچاہیے (یعنی ہر کسی سے بیعت نہیں کرنی چاہیے)۔