ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ '' فتاوی رضویہ''، ج ۲۱، ص ۳۳۱۔۳۳۲ میں ہے: ''اھل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والسلام والثناء کو عیاذا باللہ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اللہ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہو، دیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔
اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالی عنہ کتاب مستطاب ''شفاء السقام ''میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
لیس المراد نسبۃ النبي صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم إلی الخلق والاستقلال بالأفعال ھذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام إلیہ ومنعہ من باب التلبیس في الدین والتشویش علی عوام الموحدین۔
['' شفاء السقام في زیارۃ خیر الأنام''، الباب الثامن في التوسل ۔۔۔إلخ، ص۱۷۵]۔
یعنی: نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔
صدقت یا سیدی جزاک اﷲعن الإسلام والمسلمین خیراً، اٰمین!
اے میرے آقا! آپ نے سچ فرمایا اللہ تعالی آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیرعطا فرمائے۔ آمین (ت)
فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی کتاب افادت نصاب ''جوہر منظم'' میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:
فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغیرہ لیس لھما معنی في قلوب المسلمین غیر ذلک ولا یقصد بھما أحد منھم سواہ فمن لم ینشرح صدرہ لذلک فلیبکِ علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ والمستغاث بہ في الحقیقۃ ہو اﷲ، والنبي صلی اﷲ تعالی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فہو سبحانہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقاً وإیجاداً والنبي صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سبباً وکسباً۔ [''الجوہر المنظم''، الفصل السابع، فیما ینبغي للزائر۔۔۔ إلخ، ص۶۲]۔
یعنی :''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلاۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک وتعالی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتاً فریاد اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں، تو اللہ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق وایجاد کرے، اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اس کی حاجت روا ہو۔''