ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= یعنی: ''مشائخ صوفیہ اور بعض فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اولیاء کرام سے مدد حاصل کرنے کو ثابت اور جاءز قرار دیا ہے اور یہ عقیدہ اھل کشف اور ان کے کاملین کے ہاں محقق اور طے شدہ عقیدہ ہے یہاں تک کہ بہت سے حضرات کو ان ارواح سے فیوض اور فتوح حاصل ہوئے ہیں اور اس گروہ صوفیہ کی اصطلاح میں انھیں اویسی کہتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت موسی کاظم کی قبر انور قبولیت دعا کے لیے تریاق مجرب ہے ،حجۃ الاسلام امام محمد غزالی نے فرمایا: جس سے اس کی زندگی میں مدد لینا جاءز ہے ، اس سے بعد وفات بھی مدد طلب کرنا جاءز ہے ۔ مشائخ عظام میں سے ایک نے فرمایا :میں نے چار مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی قبور میں اس طرح تصرف کرتے ہیں جس طرح اپنی زندگی میں تصرف کرتے تھے یا اس سے بڑھ کر حضرت شیخ معروف کرخی، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور دو اور بزرگ شمار کیے اوران چار میں حصر مقصود نہیں جو کچھ اس بزرگ نے خود دیکھا اور پایا اس کا بیان کردیا ۔
سیدی احمد بن مرزوق رضی اللہ عنہ کہ اعاظم فقہا وعلماء اور مشائخ دیار مغرب میں سے ہیں ، فرماتے ہیں: کہ ایک دن شیخ ابو العباس حضرمی نے مجھ سے دریافت کیا :کہ زندہ کی امداد زیادہ قوی ہے یا میت کی ؟میں نے کہا: ایک قوم کہتی ہے کہ زندہ کی امداد قوی تر ہے اور میں کہتا ہوں کہ میت کی امداد قوی تر ہے ۔شیخ نے فرمایا :ہاں ؛کیونکہ وفات یافتہ بزرگ حق تعالیٰ کی درگاہ میں اسکے سامنے ہے ۔اس بارے میں اس گروہ صوفیہ سے اس قدر رویات منقول ہیں کہ حد شمار سے باہر ہیں ۔
پھر کتاب وسنت واقوال سلف و صالحین میں ایسی کوئی چیز نہیں جو ا س عقیدہ کے منافی اور مخالف ہواور اسکی تردید کرتی ہو بلکہ آیات و احادیث سے تحقیقی طور پر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ روح باقی ہے اور اسے زائرین اور انکے حالات کا علم وشعور ہوتاہے اور یہ کہ ارواح کاملین کو جناب حق تعالیٰ میں قرب ومرتبہ حاصل ہے جس طرح زندگی میں انھیں حاصل تھا بلکہ اس سے بڑھ کر ، اور اولیاء کرام کی کرامات بر حق ہیں اور انھیں کائنات میں تصرف کی قوت وطاقت حاصل ہے یہ سب کچھ انکی ارواح کرتی ہیں،اور وہ باقی ہیں اور متصرف حقیقی تو اللہ عزشانہ ہے، یہ سب کچھ حقیقۃً اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے یہ حضرات اپنی زندگی میں اور بعداز وصال جلال حق میں فانی اور مستغرق ہیں ، لھذااگر کسی کو دوستانِ حق کی وساطت سے کوئی چیز اور مرتبہ حاصل ہوجائے تو کوئی بعید نہیں (اور اس کا انکار درست نہیں)جیساکہ انکی ظاہری زندگی میں تھا اور حقیقۃً تو فعل و تصرف حق جل جلالہ وعم نوالہ کا ہوتا ہے اور ایسی کوئی دلیل اور وجہ موجود نہیں جو زندگی اور موت میں فرق کرے۔
حضرت شیخ ابن حجر ہیتمی مکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث پاک: ((لعن اللہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور أنبیائہم مساجد))[''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۲۷، ج ۱، ص ۱۶۴] (اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری پر لعنت کی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا) کی شرح میں فرمایاکہ یہ اس صورت میں ہے کہ انکی تعظیم کی خاطر ان کی قبور کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کہ ایسا کرنا بالاتفاق حرام ہے لیکن کسی پیغمبر یا ولی کے پڑوس میں مسجد بنانا اور اسکی تعظیم کے ارادہ اور قبر کی طرف توجہ کیے بغیر نماز ادا کرنا جاءز ہے بلکہ حصول مدد کی نیت سے تاکہ اس کی قبر کی برکت سے عبادت کا ثواب کامل ملے اور اسکی روح پاک کا قرب وپڑوس نصیب ہوتو اس میں کوئی حرج وممانعت نہیں ۔''
''اشعۃ اللمعات'' (مترجم)، کتاب الجنائز، زیارت قبور کابیان، ج۲، ص۹۲۳۔۹۲۴۔ انظر ''الفتاوی الرضویہ''، ج۹، ص۷۹۱ إلی ۷۹۸.