ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیرات أحمدیۃ''، پ۲۱، لقمان: تحت الآیۃ: ۳۴، ص۶۰۸۔۶۰۹: (ولک أن تقول إنّ علم ہذہ الخمسۃ وإن کان لا یعلمہ إلاّ اللہ، لکن یجوز أن یعلمہا من یشاء من محبّہ وأولیاء ہ بقرینۃ قولہ تعالی: (إِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ) علی أن یکون الخبیر بمعنی المخبر).
وفي ''تفسیر الصاوي''، پ۲۱، لقمان: تحت الآیۃ: ۳۴، ج۵، ص۱۶۰۷: ((وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا) أي: من حیث ذاتہا، وأمّا بإعلام اللہ للعبد فلا مانع منہ کالأنبیاء وبعض الأولیاء، قال تعالی:(وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہِ اِلَّا بِمَا شَاءَ). وقال تعالی:(عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) قال العلماء: وکذا ولي، فلا مانع من کون اللہ یطلع بعض عبادہ الصالحین علی بعض ہذہ المغیبات، فتکون معجزۃ للنبي وکرامۃ للولي).
2۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت امام اھلسنت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''ما کان و مایکون'' کے معنی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: '' اس کے معنی: ''ما کان من أول یوم ویکون إلی آخر الأیام''، یعنی: روزِ اول آفرینش سے روزِ قیامت تک جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایک ایک ذرے کا علم تفصیلی ۔'' '' فتاوی رضویہ''، ج ۱۵ ، ص ۲۷۵۔
3۔۔۔۔۔۔ ''الطبقات الکبری'' المسمّاۃ بـ''لواقح الأنوار في طبقات الأخیار'' للشعراني، الجزء الأول، ص ۲۰۸ و ۲۳۶ و۲۵۷۔
4۔۔۔۔۔۔ ''إرشاد الساري'' ، کتاب تفسیر القرآن، تحت الحدیث: ۴۶۹۷، ج۱۰، ص۳۶۹: ( ''مفاتیح الغیب'' أي: خزائن الغیب ''خمس لا یعلمھا إلاّ اللہ'' ذکر خمساً وإن کان الغیب لا یتناھی؛ لأنّ العدد لا ینفي الزائد، أو لأنّھم کانوا یعتقدون معرفتھا ''لا یعلم ما في غد إلاّ اللہ ولا یعلم ما تغیض الأرحام'' أي: ما تنقصہ، ''إلاّ اللہ ولا یعلم متی یأتي المطر أحد إلاّ اللہ'' أي: إلا ّعند أمر اللہ بہ فیعلم حینئذ کالسابق إذا أمر تعالی بہ، ''ولا تدري نفس بأي أرض تموت'' أي: في بلدھا أم في غیرھا کما ل اتدري في أيّ وقت تموت، ''ولا یعلم متی تقوم الساعۃ'' أحد، ''إلاّ اللہ'' إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ والولي التابع لہ یأخذ عنہ).
انظر التفصیل في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۴۰۸، ۴۱۵، ۴۴۸، ۴۷۵، ۴۷۶.
5۔۔۔۔۔۔ في ''إرشاد الساري''، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبيصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم...إلخ ، تحت الحد یث: ۵۰، ج۱، ص۲۴۳: (فمن ادّعی علم شيء منھا غیر مستند إلی الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذباً في دعواہ).
وفي''فتح الباري''، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبيصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم...إلخ ، ج۱، ص۱۱۴.
وفي ''عمدۃ القاري''، ج۱، ص۴۲۵.
''الفتاوی الرضویۃ''، ج ۲۹، ص۴۷۲.