| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
مگر یہ بھی سمجھ لو! جو اس قسم کا ہوگا، اُس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی، شریعت کا مقابلہ کبھی نہ کریگا۔(1)
مسئلہ (۴): اولیائے کرام کو اﷲ عزوجل نے بہت بڑی طاقت دی ہے، ان میں جو اصحابِ خدمت ہیں، اُن کو تصرّف کا اختیار دیا جاتا ہے، سیاہ، سفید کے مختار بنا دیے جاتے ہیں(2)، یہ حضرات نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے نائب ہیں، ان کو اختیارات وتصرفات حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت میں ملتے ہیں(3)، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''ملفوظات'' اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ میں ہے : ''سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعت مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کریگا''۔
''ملفوظاتِ اعلی حضرت بریلوی''، حصّہ دوم، ص۲۴۰۔
2۔۔۔۔۔۔ مولاناشاہ عبد العزیز صاحب محدث دھلوی ''تفسیر عزیزی ''میں زیر آیہ کریمہ (وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ)لکھتے ہیں: بعضے از خواص اولیاء اللہ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ اند دریں حالت ہم تصرف در دنیا دادہ ،و استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گردد و اویسیان تحصیل کمالات باطنی از آنہا مے نمایند اربابِ حاجات ومطالب حل مشکلات خود از انہامی طلبند و مے یابند۔
یعنی: اللہ تعالیٰ کے بعض خاص اولیاء ہیں جن کو بندوں کی تربیتِ کاملہ اور راہنمائی کے لئے ذریعہ بنایا گیا ہے، انھیں اس حالت میں بھی دنیا کے اندر تصرف کی طاقت واختیار دیاگیاہے اور کامل وسعتِ مدارک کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا، صوفیائے اویسیہ باطنی کمالات ان اولیاء اللہ سے حاصل کرتے ہیں اور غرض مند و محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔
''فتح العزیز''(تفسیر عزیزی)، تحت الآیۃ: وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ، ص۲۰۶، بحوالہ ''فتاوی رضویہ'' ج۲۹، ص۱۰۳۔۱۰۴ ۔
3۔۔۔۔۔۔ في ''الیواقیت والجواہر'': (من الأدب أن یقال: فلان یطلع علی قدم الأنبیائ، ولا یقال: إنّہ علی قلبہم؛ لأنّ الأولیاء علی آثار الأنبیاء مقتدون ولو أنّہم کانوا علی قلوب الأنبیاء لنالوا ما نالتہ الأنبیاء أصحاب الشرائع فلما أطلعني اللہ علی مقامات الأنبیاء علمت أنّ للأولیاء معراجین أحدھما یکونون فیہ علی قلوب الأنبیاء ما عدا محمداً صلی اللہ علیہ وسلم کما سیأتي لکن من حیث ہم أولیاء أو ملہمون فیما لا تشریع والمعراج التالي یکونون فیہ علی أقدام الأنبیاء أصحاب التشریع فیأخذون معاني شرعہم بالتعریف من اللہ ولکن من مشکاۃ نور الأنبیاء فلا یخلص لہم الأخذ عن اللہ ولا عن الروح القدس وما عدا ذلک فإنّہ یخالص لہم من اللہ تعالی ومن الروح القدس من طریق الإلہام)۔
(''الیواقیت والجواہر''، المبحث السابع والأربعون، الجزء الثاني، ص۳۴۸۔۳۴۹)۔
انظر ''بہجۃ الاسرار''، ذ کر کلمات أخبر بہا عن نفسہ۔۔۔ إلخ، ص۵۰، وفي ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ۴۹۲۔۴۹۳۔