| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اور تمام اولیائے محمدیّین میں سب سے زیادہ معرفت وقربِ الٰہی میں خلفائے اَربعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم ہیں اور اُن میں ترتیب وہی ترتیب افضلیت ہے، سب سے زیادہ معرفت و قرب صدیقِ اکبر کو ہے،پھر فاروقِ اعظم، پھر ذو النورَین، پھر مولیٰ مرتضیٰ کو رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اجمعین۔(1)
ہاں مرتبہ تکمیل پر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جانبِ کمالاتِ نبوت حضراتِ شیخین کو قائم فرمایا اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولیٰ مشکل کشا کو(2) تو جملہ اولیائے مابعد نے مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی اور انھیں کے دست نگر(3) تھے، اور ہیں، اور رہیں گے۔
عقیدہ (۲): طریقت منافی شریعت نہیں۔(4) وہ شریعت ہی کا باطِنی حصہ ہے، بعض جاھل مُتصوِّف جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں: کہ طریقت اور ہے شریعت اور، محض گمراہی ہے اور اس زُعمِ باطل کے باعث اپنے آپ کو شریعت سے آزاد سمجھنا صریح کفر واِلحاد۔(5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''المعتمد المستند''، حاشیۃ نمبر: ۳۱۶، ص۱۹۱: (أفضل الأولیاء المحمدیین أبو بکر، ثم عمر ، ثم عثمان، ثم علي رضي اللہ تعالٰی عنھم).
وفي ''الحد یقۃ الند یۃ''، ج۱، ص۲۹۳: (وأفضلہم) أي: الأولیاء (أبو بکر الصدیق رضياللہ عنہ ثم عمر) بن الخطاب (الفاروق، ثم عثمان) بن عفان (ذو النورین، ثم علي المرتضی) ملتقطا۔
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۲۳۴.
3۔۔۔۔۔۔ محتاج، حاجت مند۔
4۔۔۔۔۔۔ یعنی: طریقت، شریعت کے خلا ف نہیں ہے ۔
5۔۔۔۔۔۔ في ''إحیاء العلوم ''، کتاب قواعد العقائد، الفصل الثاني: في وجہ التدریج إلی الإرشاد...إلخ، ج۱، ص ۱۳۸۔۱۳۹: (إنّ الباطن إن کان مناقضاً للظاہر ففیہ إبطال الشرع، وہو قول من قال: إنّ الحقیقۃ خلاف الشریعۃ وہوکفر لأنّ الشریعۃ عبارۃ عن الظاہر والحقیقۃ عبارۃ عن الباطن)۔۔۔۔۔۔(فمن قال: إنّ الحقیقۃ تخالف الشریعۃ أو الباطن یناقض الظاہر فہو إلی الکفر أقرب منہ إلی الإیمان)، ملتقطاً. وفي ''عوارف المعارف''، ص۵۲، ۱۲۸.
وفي ''کشف المحجوب''، ومن ذلک الشریعۃ والحقیقۃ والفرق بینھما، ص۴۲۳۔۴۳۳.
اعلی حضرت عظیم المرتبت پروانہ شمع رسالت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ'' میں فرماتے ہیں:'' شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلاً کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نِرا جاھل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ، بددین۔ شریعت، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت، حضور کے افعال ، اور حقیقت، حضور کے احوال ، اور معرفت، حضور کے علومِ بے مثال ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وأصحابہ إلی مالا یزال(ان پر(یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر) ان کی آل پر اور