Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
264 - 278
ولایت کا بیان
    ولایت ایک قربِ خاص ہے کہ مولیٰ عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔ 

    مسئلہ (۱): ولایت وَہبی شے ہے(1)، نہ یہ کہ اَعمالِ شاقّہ(2) سے آدمی خود حاصل کرلے، البتہ غالباً اعمالِ حسنہ اِس عطیہ الٰہی کے لیے ذریعہ ہوتے ہیں اور بعضوں کو ابتداء مل جاتی ہے۔(3) 

    مسئلہ (۲): ولایت بے علم کو نہیں ملتی، (4) خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو، یا اس مرتبہ پر پہنچنے سے پیشتر اﷲ عزوجل نے اس پر علوم منکشف کر دیے ہوں۔

    عقیدہ (۱): تمام اولیائے اوّلین و آخرین سے اولیائے محمدیّین یعنی اِس اُمّت کے اولیاء افضل ہیں(5) ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔ ولایت، اﷲعزوجل کی طرف سے عطا کردہ اِنعام ہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔ سخت مشکل اعمال۔ 

3۔۔۔۔۔۔فتاویٰ رضویہ ، ج ۲۱، ص ۶۰۶ : ''ولایت کسبی نہیں محض عطائی ہے ہاں کوشش اور مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتے ہیں ۔ ''

    ''الملفوظ''، معروف بہ ''ملفوظات اعلی حضرت ''رحمۃ اللہ علیہ ، حصہ اول، ص۲۳ و ۲۴۔

4۔۔۔۔۔۔ (فإنّ اللہ ما اتخذ ولیاً جاھلاً)۔ ''الفتوحات المکیۃ''، ج۳، ص۹۲۔

     اعلیٰ حضرت امام اھلسنت مجدد دین ملت امام احمد رضا خان ارشاد فرماتے ہیں: ''حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں، علامہ مناوی ''شرح جامع صغیر ''پھر عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی ''حدیقہ ندیہ ''میں فرماتے ہیں: امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: علم الباطن لا یعرفہ إلاّ من عرف علم الظاہر [''الحدیقہ الندیہ''، النوع الثاني، ج۱، ص۱۶۵] ۔ علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے، امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : وما اتخذ اللہ ولیاً جاھلاً، اللہ نے کبھی کسی جاھل کو اپنا ولی نہ بنایا، یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا۔'' ''فتاوی رضویہ'' ،ج۲۱، ص۵۳۰۔ 

5۔۔۔۔۔۔ في ''الیواقیت والجواہر'': (اعلم أنّ عدد منازل الأولیاء في المعارف والأحوال التي ورثوہا من الرسل علیہم الصلاۃ والسلام، مائتا ألف منزل وثمانیۃ وأربعون ألف منزل وتسعمائۃ وتسعۃ وتسعون منزلاً لا بد لکل من حق لہ قدم الولایۃ أن ینزلہا جمیعہا ویخلع علیہ في کل منزل من العلوم ما لا یحصی، قال الشیخ محیي الدین: وہذہ المنازل خاصۃ بہذہ الأمۃ المحمدیۃ لم ینلہا أحد من الأمم قبلہم ولکل منزل ذوق خاص لا یکون لغیرہ)۔

''الیواقیت والجواہر''، المبحث السابع والأربعون، الجزء الثاني، ص۳۴۸۔
Flag Counter