Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
262 - 278
    عقیدہ (۱۷): اھلِ بیتِ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم مقتدایانِ اھلِ سنّت ہیں، جو اِن سے محبت نہ رکھے، مردود وملعون خارجی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سے اس پر سند لاتے ہیں: (فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَہُمْ) کیا قریب ہے کہ اگر والی ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔

    شک نہیں کہ یزید نے والی مُلک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا ، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی ، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے ، سر انور کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے ، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن عظیم میں صراحۃ اس پر (لَعَنَہُمُ اللہُ) (ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ت) فرمایا، لھذا امام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ھمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ اس سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں اور بحال احتمال نسبتِکبیرہ بھی جاءز نہیں نہ کہ تکفیر، اور امثال وعیدات مشروط بعدم ِتوبہ ہیں لقولہ تعالی (فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّااِلَّا مَنْ تَابَ)( تو عنقریب دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔ت) اور توبہ تادم ِ غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اھل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت وبدمذہبی صاف ہے ،بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبتِ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شمّہ ہو، (وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ)(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)، شک نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اھل سنت کا عدو وعنود ہے''۔ 

    ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۵۹۱۔۵۹۳. 

    احکام شریعت میں فرماتے ہیں: ''یزید پلید کے بارے میں ائمہ اھل سنت کے تین قول ہیں امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے اور ھمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر لھذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔ واللہ تعالی اعلم.''احکام شریعت''، ص۱۶۵. 

    انظر للتفصیل: ''المسامرۃ''، ما جری بین علي ومعاویۃ رضياللہ عنھما، ص۳۱۷۔۳۱۸. و''النبراس''، ص۳۳۰۔۳۳۲.

    و''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۷۱۔۷۳. ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۶۳۔۱۶۴.
Flag Counter