| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۱۴): ام المؤمنین حضرت صدیقہ بنت الصدیق محبوبہ محبوبِ ربِ العالمین جل و علا و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیھما وسلم پر معاذاﷲ تہمتِ ملعونہ اِفک (1) سے اپنی ناپاک زبان آلودہ کرنے والا، قطعاً یقینا کافر مرتد ہے(2) اور اس کے سوا اور طعن کرنے والا رافضی، تبرّائی، بد دین، جہنمی۔
عقیدہ (۱۵): حضرات حسنَین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما یقینا اعلیٰ درجہ شہدائے کرام سے ہیں، ان میں کسی کی شہادت کا منکر گمراہ، بددین، خاسر ہے۔
عقیدہ (۱۶): یزید پلید فاسق فاجر مرتکبِ کبائر تھا، معاذاﷲ اس سے اور ریحانہ رسول اللہصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سیّدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کیا نسبت...؟! آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ: ''ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل؟ ھمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے''۔(3) ایسا بکنے والا مردود، خارجی، ناصبی(4) مستحقِ جہنم ہے۔ ہاں! یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اھلِ سنّت کے تین قول ہیں اور ھمارے امامِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں، نہ مسلمان۔(5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ آپ رضی اﷲ تعالی عنہا کی پاکدامنی پر بہتان۔.
2۔۔۔۔۔۔ في ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین: (ولو قذف عائشۃ رضي اللہ عنھا بالزنی کفر باللہ ولو قذف سائر نسوۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا یکفر ویستحق اللعنۃ).
''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۴
و''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۴.
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۷۲: (سب الصحابۃ والطعن فیھم إن کان مما یخالف الأدلۃ القطعیۃ فکفر کقذف عائشۃ رضي اللہ عنہا وإلاّ فبدعۃ وفسق). ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۱۴، ص۲۴۶.
3۔۔۔۔۔۔ لم نعثر علیہ۔
4۔۔۔۔۔۔ وہ فرقہ جو اپنے سینوں میں حضرت علی اور حسن و حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بغض و کینہ رکھتے ہیں۔
5۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: '' یزید پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اھلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اھل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ