Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
260 - 278
ہوئی، مگر اِن سب نے بالآخر رجوع فرمائی(1)، عرفِ شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ  امامِ برحق کو کہتے ہیں، عناداً (2)ہو، خواہ اجتہاداً (3)، ان حضرات پر بوجہ رجوع اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا، گروہِ امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر حسبِ اصطلاحِ شرع اِطلاق فئہ باغیہ(4) آیا ہے(5)، مگر اب کہ باغی بمعنی مُفسِد ومُعانِد وسرکش ہو گیا اور دُشنام(6) سمجھا جاتا ہے، اب کسی صحابی پر اس کا اِطلاق جاءز نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (شہد الزبیر الجمل مقاتلاً لعلي، فناداہ علي ودعاہ، فانفرد بہ وقال لہ: أتذکر إذ کنت أنا وأنت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فنظر إلي وضحک وضحکتُ فقلت: أنت لا یدع ابن أبي طالب زہوہ فقال: لیس بمزہ، ولتقاتلنّہ وأنت لہ ظالم، فذکر الزبیر ذلک، فانصرف عن القتال، فنزل بوادي السباع، وقام یصلي فأتاہ ابن جرموز فقتلہ، وجاء بسیفہ إلی علي فقال: إنّ ھذا سیف طالما فرّج الکرب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ثم قال: بشّر قاتل ابن صفیۃ بالنار). 

    ''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، ج۲، ص۲۹۷.

    وفیہ: (قتل طلحۃ یوم الجمل، وکان شہد ذلک الیوم محارباً لعلي بن أبي طالب رضي اللہ عنھما، فزعم بعض أھل العلم أنّ علیاً دعاہ، فذکّرہ أشیاء من سوابقہ علی ما قال للزبیر، فرجع عن قتالہ، واعتزل في بعض الصفوف، فرمي بسہم في رجلہ، وقیل: إنّ السہم أصاب ثغرۃ نحرہ فمات، رماہ مروان بن الحکم). ''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، ج۳، ص۸۵.

    ان روایتوں سے پتہ چلا کہ حضرت زبیر اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنھما دونوں سے خطاء اجتہادی واقع ہوئی اور یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مدمقابل ہوئے لیکن یاد دلانے پر الگ ہوگئے اور جنگ نہیں لڑی۔ 

2۔۔۔۔۔۔ دشمنی کے طور پر ۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الجھاد، باب البغاۃ ، ج۶، ص۳۹۸۔۳۹۹ : (البغي شرعا: ھم الخارجون عن الإمام الحقّ بغیر حقّ فلو بحقّ فلیسوا ببغاۃ).

4۔۔۔۔۔۔ شریعت کی اصطلاح میں اسے باغی گروہ کہا گیاہے ۔

5۔۔۔۔۔۔ في ''صحیح البخاري'': عن عکرمۃ: قال لي ابن عباس ولابنہ علي: انطلقا إلی أبي سعید، فاسمعا من حدیثہ، فانطلقنا فإذا ہو في حائط یصلحہ، فأخذ رداء ہ فاحتبی، ثم أنشأ یحدثنا حتی أتی ذکر بناء المسجد فقال: کنا نحمل لبنۃ لبنۃ، وعمار لبنتین لبنتین فرآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فینفض التراب عنہ ویقول: ((ویح عمار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ یدعوہم إلی الجنۃ ویدعونہ إلی النار)) قال: یقول عمار: أعوذ باللہ من الفتن۔

''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب التعاون في بناء المسجد، الحدیث: ۴۴۷، ج۱، ص۱۷۱۔

6۔۔۔۔۔۔گالی
Flag Counter