Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
257 - 278
    مسئلہ (۶): یہ جو بعض جاھل کہا کرتے ہیں کہ جب حضرت مولیٰ [علی] کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نام لیا جائے تو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نہ کہا جائے، محض باطل وبے اصل ہے۔(1) علمائے کرام نے صحابہ کے اسمائے طیبہ کے ساتھ مطلقاً ''رضی اﷲ تعالیٰ عنہ'' کہنے کا حکم دیا ہے(2)، یہ استثنا نئی شریعت گڑھنا ہے۔ 

    عقیدہ (۱۲): منھاجِ نبوت پر خلافتِ حقہ راشدہ تیس سال رہی، کہ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چھ مہینے پر ختم ہوگئی، پھر امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافتِ راشدہ ہوئی(3) اور آخر زمانہ میں حضرت سیّدنا امام مَہدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہوں گے۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ 

2۔۔۔۔۔۔ في''نسیم الریاض''، القسم الثاني فیما یجب علی الأنام من حقوقہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ج۵، ص۹۳: ((وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانِ رَّضِیَ اللہُ عَنْھُمْ) [التوبۃ :۱۰۰] فیدعی بذلک المذکور من المغفرۃ والرحمۃ والترضي لسائر المؤمنین والصحابۃ۔۔۔۔۔۔ وأمّا ما قیل: من أنّہ لا یدعی للصحابۃ إلاّ برضي اللہ تعالی عنھم، فھو أمرحسن للأدب).

3۔۔۔۔۔۔ في ''النبراس''، ص۳۰۸: (والخلافۃ بعد النبي صلی اللہ علیہ وسلم ثلاثون سنۃ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ((الخلافۃ ثلاثون سنۃ۔۔۔۔۔۔)) وقد استشہد علي رضي اللہ عنہ علی رأس ثلاثین سنۃ أي: نہایتہا من وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھذا تقریب، والتحقیق أنّہ کان بعد علي رضي اللہ عنہ نحو ستۃ أشہر باقیۃ من ثلثین سنۃ وہي مدۃ خلافۃ الحسن بن علي رضي اللہ عنھما، وکان کمال ثلثین عند تسلیم الحسن الخلافۃ إلی معاویۃ، وعمر بن عبد العزیز وہو خامس الخلفاء الراشدین صاحب الحدیث والاجتہاد والتقوی والعدل والکرامات والمناقب الرفیعۃ)، ملتقطاً.

4۔۔۔۔۔۔ عن محمد بن الحنفیۃ، قال: کنا عند علي رضي اللہ عنہ، فسألہ رجل عن المہدي، فقال علي رضي اللہ عنہ: ((ہیہات، ثم عقد بیدہ سبعاً، فقال: ذاک یخرج في آخر الزمان...إلخ)). 

    ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الفتن والملاحم، الحدیث:۸۷۰۲، ج۵، ص ۷۶۶۔۷۶۷. 

في''منح الروض الأزہر''، ص۶۵:((الخلافۃ بعدي ثلاثون سنۃ ثم تصیر ملکاً عضوضاً)) ولا یشکل بأنّ أھل الحل والعقد من الأمۃ قد کانوا متفقین علی خلافۃ الخلفاء العباسیۃ وبعض المروانیۃ کعمر بن عبد العزیز، فإنّ المراد بالخلافۃ المذکورۃ في الحدیث الخلافۃ الکاملۃ التي لا یشوبہا شيء من المخالفۃ ومیل عن المتابعۃ یکون ثلاثون سنۃ، وبعدہا قد تکون وقد لا تکون، إذ قد ورد في حق المہدي أنّہ خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، والأظہر أنّ إطلاق الخلیفۃ علی الخلفاء العباسیۃ کان علی المعاني اللغویۃ المجازیۃ العرفیۃ دون الحقیقۃ الشرعیۃ)، ملتقطاً.
Flag Counter