Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
256 - 278
    خطا دو قسم ہے: خطاء عنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اِس میں اُس پر عند اﷲ اصلاً مؤاخذہ نہیں۔ مگر احکامِ دنیا میں وہ دو قسم ہے: خطاء مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہوگا، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو، جیسے ھمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔ 

    دوسری خطاء منکَر، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا، کہ اس کی خطا باعثِ فتنہ ہے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا حضرت سیّدنا امیرالمومنین علی مرتضیٰ کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے خلاف اسی قسم کی خطا کا تھا(1) اور فیصلہ وہ جو خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم نے فرمایا کہ مولیٰ علی کی ڈِگری(2) اور امیرِ معاویہ کی مغفرت، رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اجمعین۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

والشرعیات الأصلیۃ والفرعیۃ قد یخطیئ وقد یصیب).

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۳۵ ۔ ۳۳۶. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی تائید و سندِ حق۔ 

3۔۔۔۔۔۔ عن عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ قال: (رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في المنام وأبو بکر وعمرجالسان عندہ، فسلمت علیہ وجلست، فبینما أنا جالس إذ أتي بعلي ومعاویۃ، فأدخلا بیتا وأجیف الباب وأنا أنظر، فما کان بأسرع من أن خرج علي وہو یقول: قضی لي ورب الکعبۃ، ثم ما کان بأسرع من أن خرج معاویۃ وہو یقول: غفر لي ورب الکعبۃ).

''البدایۃ والنہایۃ''، ج۵، ص۶۳۳.

    وفي ''مختصر تأریخ دمشق''، قال یزید بن الأصم: لما وقع الصلح بین علي ومعاویۃ خرج علي فمشی في قتلاہ فقال: ہؤلاء في الجنۃ، ثم مشی في قتلی معاویۃ فقال: ہؤلاء في الجنۃ، ولیصیر الأمر إلي وإلی معاویۃ، فیحکم لي ویغفر لمعاویۃ؛ ہکذا أخبرني حبیبي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم..

    وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أوّل من یختصم في ہذہ الأمۃ بین یدي الرب علي ومعاویۃ، وأوّل من یدخل الجنۃ أبو بکر وعمر))، قال ابن عباس:کنت جالساً عند النبي صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ أبو بکر وعمر وعثمان ومعاویۃ إذ أقبل علي بن أبي طالب، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لمعاویۃ: ((أتحب علیاً یا معاویۃ؟)) فقال معاویۃ: إي واللہ! الذي لا إلہ إلاّ ہو إنّي لأحبہ في اللہ حباً شدیداً، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہا ستکون بینکم ہنیہۃ))، قال معاویۃ: ما یکون بعد ذلک یا رسول اللہ؟ فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: غفر اللہ ورضوانہ، والدخول إلی الجنۃ))، قال معاویۃ: رضینا بقضاء اللہ فعند ذلک نزلت ہذہ الآیۃ: (وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْا وَلٰـکِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ).
Flag Counter