| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اوّل ملوکِ اسلام ہیں(1)، اسی کی طرف توراتِ مقدّس میں اشارہ ہے کہ:
''مَوْلِدُہٗ بِمَکَّۃَ وَمُھَاجَرُہٗ بِطَیْبَۃَ وَمُلْکُہٗ بِالشَّامِ.''(2)
''وہ نبی آخر الزماں (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔''
تو امیرِ معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے، مگر کس کی! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سلطنت ہے۔ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک فوجِ جرّار جاں نثار کے ساتھ عین میدان میں بالقصد و بالاختیار ہتھیار رکھ دیے اور خلافت امیرِ معاویہ کو سپرد کر دی اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرمالی(3) اور اس صُلح کو حضور ِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اس کی بشارت دی کہ امام حسن کی نسبت فرمایا:((إِنَّ ابْنِي ھٰذَا سَیِّدٌ لَعَلَّ اللہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ.))(4)
''میرایہ بیٹا سیّد ہے، میں امید فرماتا ہوں کہ اﷲ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہِ اسلام میں صلح کرا دے۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۶۸۔۶۹: (وأول ملوک المسلمین معاویۃ رضي اللہ عنہ).
2۔۔۔۔۔۔ ''المستدرک''، کتاب تواریخ المتقدمین من الأنبیاء والمرسلین، الحدیث: ۴۳۰۰، ج ۳، ص۵۲۶.
و''دلائل النبوۃ'' للبیہقي، ج۶، ص۲۸۱، و''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الفضائل، الحدیث: ۵۷۷۱، ج۳، ص۳۵۸.
3۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ ابني ھذا سید ولعل اللہ أن یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین)).
''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للحسن بن علي، الحدیث: ۲۷۰۴، ج۲، ص۲۱۴.
و''الجامع الصغیر''، الحدیث: ۲۱۶۷، ج۱، ص۱۳۲.
في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۵۱۹، تحت الحدیث: ((أن یصلح بہ) یعني: بسبب تکرمہ وعزلہ نفسہ عن الخلافۃ، وترکہا کذلک لمعاویۃ (بین فئتین عظیمتین من المسلمین) وکان ذلک، فلما بویع لہ بعد أبیہ وصار ہو الإمام الحق مدۃ ستۃ أشہر تکملۃ للثلاثین سنۃ التي أخبر المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم أنّہا مدۃ الخلافۃ وبعدہا یکون ملکاً عضوضاً ثم سار إلی معاویۃ بکتائب کأمثال الجبال وبایعہ منھم أربعون ألفاً علی الموت، فلما تراء ی الجمعان علم أنّہ لا یغلب أحدھما حتی یقتل الفریق الآخر فنزل لہ عن الخلافۃ لا لقلۃ ولا لذلۃ بل رحمۃ للأمۃ۔۔۔ إلخ).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۶۸۔۶۹: (أول ملوک المسلمین معاویۃ رضياللہ عنہ وہو أفضلہم لکنّہ إنما صار إماماً حقاً لما فوض إلیہ الحسن بن علي رضياللہ عنھما الخلا فۃ، فإنّ الحسن بایعہ أھل العراق بعد موت أبیہ ثم بعد ستۃ أشہر فوض الأمر إلی معاویۃ رضياللہ عنہ).
4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، باب قول النبيصلی اللہ علیہ وسلم للحسن بن علي رضی اللہ عنھما: إنّ ابني ھذا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۷۰۴، ج۲، ص۲۱۴.