''اﷲ خوب جانتا ہے، جو کچھ تم کرو گے۔''
تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکے تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے...؟! کیا طعن کرنے والا اﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ (2)
عقیدہ (۱۱): امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجتہد تھے، اُن کا مجتہد ہونا حضرت سیّدنا عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے حدیث ِ''صحیح بخاری'' میں بیان فرمایا ہے(3)، مجتہد سے صواب و خطا(4) دونوں صادر ہوتے ہیں۔(5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
إخواناً علی سرر متقابلین)۔
1۔۔۔۔۔۔ (لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) پ۲۷، الحدید : ۱۰.
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۱۰۰ ۔ ۱۰۱، ۲۶۴، ۳۳۶، ۳۶۱۔۳۶۳.
3۔۔۔۔۔۔ حدثنا ابن أبي مریم: حد ثنا نافع بن عمر: حدثنی ابن أبی ملیکۃ: (قیل لابن عباس: ھل لک فی أمیر المؤمنین معاویۃ فإنہ ما أوتر إلاّ بواحدۃ قال: أصاب إنہ فقیہ). ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، باب ذکر معاویۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ، الحدیث: ۳۷۶۵، ج۲، ص۵۰۵.
''المشکاۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر، الحدیث: ۱۲۷۷، ج۱، ص۲۵۰۔
في ''المرقاۃ''، ج۳، ص ۳۴۹۔۳۵۰، تحت الحدیث: (قال: أي: ابن عباس أصاب، أي: أدرک الثواب في اجتہادہ إنّہ فقیہ، أي: مجتہد وہو مثاب وإن أخطأ).
4۔۔۔۔۔۔ صحیح اور غلط۔
5۔۔۔۔۔۔ في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث المجتھد قد یخطیئ ویصیب، ص۱۷۵: (والمجتھد في العقلیات والشرعیات الأصلیۃ والفرعیۃ قد یخطیئ وقد یصیب).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، المجتہد في العقلیات یخطیئ ویصیب، ص۱۳۳: ( أنّ المجتھد في العقلیات