Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
254 - 278
    مسئلہ (۵): صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کے باہم جو واقعات ہوئے، ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔ 

    عقیدہ (۹): تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں، وہ جہنم کی بِھنک(1) نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا (2)، یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے۔ 

    عقیدہ (۱۰): صحابہ کر ام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم، انبیا نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں، مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے۔ (3) اﷲ عزوجل نے ''سورہ حدید'' میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں، مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا:
( وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ )
''سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

امت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے صاحب ِسلسلہ ہو خواہ غیر ان کا، ہرگز ہرگز ان (یعنی صحابہ) میں سے ادنی سے ادنی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، اور ان میں ادنی کوئی نہیں۔        ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۵۷.

1۔۔۔۔۔۔ ھلکی سی آواز بھی۔ 

2۔۔۔۔۔۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰۤئِکَۃُ ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) پ۱۷، الأنبیائ: ۱۰۱۔ ۱۰۳.

3۔۔۔۔۔۔ (وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنْ غِلٍّ) پ۸، الأعرف: ۴۳۔

    في ''التفسیر الکبیر''، ج۵، ص۲۴۲۔۲۴۳: تحت الآیۃ: (ومعنی نزع الغل: تصفیۃ الطباع وإسقاط الوساوس ومنعہا من أن ترد علی القلوب،۔۔۔۔۔۔۔۔ وإلی ھذا المعنی أشار علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ فقال: إنی لأرجو أن أکون أنا وعثمان وطلحۃ والزبیر من الذین قال اللہ تعالی فیہم: (وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنْ غِلٍّ))۔

    وفي ''روح البیان''، تحت الآیۃ: ج۳، ص۱۶۲: (قال ابن عباس رضی اللہ عنھما: نزلت ہذہ الآیۃ في أبي بکر وعمر وعثمان وعلي وطلحۃ والزبیر وابن مسعود وعمار بن یاسر وسلمان وأبي ذر ینزع اللہ في الآخرۃ ما کان في قلوبہم من غشّ بعضھم لبعض في الدنیا من العداوۃ والقتل الذي کان بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والأمر الذي اختلفوا فیہ فیدخلون
Flag Counter