| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنھم، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنہوں نے قبلِ اسلام حضرت سیّدنا سید الشہدا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا اور بعدِ اسلام اَخبث الناس خبیث مُسَیْلِمَہ کذّاب ملعون (1) کو واصلِ جہنم کیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے :کہ میں نے خیر النّاس و شر النّاس کو قتل کیا (2)، اِن میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرّا(3) ہے اور اِس کا قائل رافضی، اگرچہ حضراتِ شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی توہین کے مثل نہیں ہوسکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔ (4)
عقیدہ (۸): کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کاہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا۔ (5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غضبان منتقم عزیز مقتدر جبار قہار (ِانَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ))، ملتقطاً.
1۔۔۔۔۔۔ نبوت کا جھوٹا دعویدار مسیلمہ لعنتی۔
2۔۔۔۔۔۔ (وحشي بن حرب الحبشي قاتل حمزۃ بن عبد المطلب رضي اللہ عنہ یوم أحد، وشَرِک في قتل مسیلمۃ الکذاب یوم الیمامۃ، وکان یقول: قتلت خیر الناس في الجاھلیۃ وشرّ الناس في الإسلام).
''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، الجزء الخامس، رقم الترجمۃ: ۵۴۴۲، ص۴۵۴.
3۔۔۔۔۔۔ نفرت کا اظہار کرنا۔
4۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۶۲: (من سب الشیخین أو طعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ).
وفي ''البزازیۃ''، ج۶، ص ۳۱۹: (الرافضي إن کان یسب الشیخین ویلعنھما فہو کافر)، (ھامش ''الہندیۃ'').
وفیہا ج۶، ص ۳۱۸: (من أنکر خلافۃ أبي بکر رضي اللہ عنہ فہو کافر في الصحیح، ومنکر خلافۃ عمر رضي اللہ عنہ فہو کافر في الأصحّ)، (ھامش ''الہندیۃ'').
وفي ''فتح القدیر''، باب الإمامۃ ،ج۱، ص۳۰۴: (وفی الروافض أنّ من فضل علیاً رضی اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر رضي اللہ عنھما فہو کافر).
وفي ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، إمامۃ العبد والأعرابي والفاسق...إلخ، ج۱، ص۶۱۱: (والرافضی إن فضل علیاً علی غیرہ فہو مبتدع ، وإن أنکر خلافۃ الصدیق فہو کافر).
في ''رد المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۸: (وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر فہو کافر).
وفي ''تبیین الحقائق''، کتاب الصلاۃ، الأحق بالإمامۃ، ج۱، ص۳۴۷: (وفي الروافض إن فضل علیاً رضي اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر فہو کافر). انظر للتفصیل ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۵۱.
5۔۔۔۔۔۔ في ''المرقاۃ''، کتاب الفتن، تحت الحدیث: ۵۴۰۱، ج۹، ص۲۸۲: (من القواعد المقررۃ أنّ العلماء والأولیاء من الأمۃ لم یبلغ أحد منھم مبلغ الصحابۃ الکبرائ).
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ''تابعین سے لے کرتا بقیامت