Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
252 - 278
    عقیدہ (۶): تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اھلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ (1) 

    عقیدہ (۷): کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم کے ساتھ بغض ہے(2)، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے، مثلاً حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند، اسی طرح حضرت سیّدنا عَمرو بن عاص، و حضرت مغیرہ بن شعبہ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

درخت کے نیچے مجھ سے بیعت کی۔ 

    یہ سب بھی جنتی ہیں ، اور افضلیت میں یہ ترتیب مذکور مجمع علیہ ہے جسے ابو منصور تمیمی نے نقل کیا ہے ۔ ان تمام مذکور ین صحابہ کے بعد بھی بحسب فضائل ومآ ثر جو ان کے حق میں مروی ہیں ، وہ سب جنتی ہیں ، ان کے درجات ومقامات جدا جدا ہوں گے ، علماء نے ان کی تصریح منظور نہ کی ، واللہ اعلم۔ 

''تکمیل الایمان'' (فارسی)، ص۱۶۱۔۱۶۵، (اردو) ص۱۱۷۔۱۲۱.

1۔۔۔۔۔۔ في ''المسامرۃ''، ص۳۱۳: (واعتقاد أھل السنۃ) والجماعۃ (تزکیۃ جمیع الصحابۃ) رضي اللہ عنھم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیہم، (والثناء علیہم کما أثنی اللہ سبحانہ وتعالی علیہم إذ قال: (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)) وقال تعالی: ( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ) وسطاً أي: عدولاً خیاراً.

    وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، أفضلیۃ الصحابۃ بعد الخلفائ، ص۷۱: (ولا نذکر الصحابۃ) أي: مجتمعین ومنفردین، وفي نسخۃ : ولا نذکر أحداً من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم إلاّ بخیر، ولقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ((إذا ذکر أصحابي فأمسکوا))، ولذلک ذھب جمھور العلماء إلی أنّ الصحابۃ رضي اللہ عنھم کلھم عدول قبل فتنۃ عثمان وعلي وکذا بعدہا)، ملتقطاً.

    وفي''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۶۲: (ویکف عن ذکر الصحابۃ إلاّ بخیر).

2۔۔۔۔۔۔ عن عبد اللہ بن مغفل قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((اللہ اللہ في أصحابي، لا تتخذوہم غرضا بعدي، فمن أحبہم فبحبي أحبہم ومن أبغضھم فببغضي أبغضھم، ومن آذاہم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذی اللہ، ومن آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ)).     ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب من سبّ أصحاب النبيصلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۸۸۸، ج۵، ص۴۶۳.

    في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۱۲۴، تحت الحدیث: (((اللہ اللہ في)) حق (أصحابي) أي: اتقوا اللہ فیہم ولا تلمزوہم بسوئ، أو اذکروا اللہ فیہم وفي تعظیمہم وتوقیرہم، وکررہ إیذاناً بمزید الحث علی الکف عن التعرض لہم بمنقص ((لا تتخذوہم غرضاً)) ہدفاً ترموہم بقبیح الکلام کما یرمی الہدف بالسہام، ہو تشبیہ بلیغ ((بعدي)) أي: بعد وفاتي۔۔۔۔۔۔ ((ومن آذاہم)) بما یسوء ہم ((فقد آذاني ومن آذاني فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ یوشک أن یأخذہ)) أي: یسرع انتزاع روحہ أخذۃ
Flag Counter