Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
251 - 278
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہیں۔ اور عام مخلوق جان لے کہ دخول جنت کی بشارت ان ہی دسوں کے ساتھ قطعی اور مخصوص ہے یہ گمان محض غلط اور صریح جہالت ہے ۔

    اور بعض عربی کے طالب علم جو نا پختہ اور عام جھلا ء سے بڑ ھ کر ہیں کہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی بشارت ہے لیکن ان عشرہ مبشرہ کی بشارت قطعی ہے اور ان کے سوا اوروں کے لیئے ظنی ہے اور ان دسوں کی درجہ بشارت سے قوت وشہرت اور تواتر میں کم ہے ۔ اس گمان فاسد کی منشاء عد م تتبع احادیث او ر علم حدیث کی خدمت میں کوتا ہی کی وجہ سے ہے ، اللہ تعالی ان سے در گزر فرمائے ، ہم نے اس بحث کو اسی زمانہ میں ایک مستقل کتاب میں جس کانام'' تحقیق الإشارۃ في تعمیم البشارہ''ہے تفصیل وتحقیق کے ساتھ بیان کیا ہے ، اور مبشرین کے نام بھی جو کہ احادیث میں نظر سے گزرے ذکر کردیے ہیں ۔

    حق وصواب یہی ہے کہ خلفاء اربعہ، فاطمہ وحسن وحسین وغیرہم رضی اللہ عنھم کی بشارت مشہور اور اصل بحد تواتر معنوی ہے باقی عشرہ مبشرہ کی بشارت بھی بحد شہرت پہنچی ہوئی ہے اور بعض دیگر صحابہ بھی اخبار احاد سے تفاوت مراتب کے ساتھ صاحب بشارت ہیں ، اور حکم غیر مبشرین کا یہ ہے کہ علماء فرماتے ہیں کہ: مومنین ومسلمین جنتی، اور کفار دوزخی ،بغیر جزم و یقین، اور بلا قطعی کسی کے جنتی یا نار ی کی خصوصیت کے ، اس کی مکمل تحقیق کتاب مذکور میں ملاحظہ کریں ۔ وباللہ التوفیق۔

    ذکر أھل بدر: 

    أھل بدر: یعنی بعد عشرہ مبشرہ کے فضیلت بدری اصحاب کے لئے ہے ۔ اوراھل بد ر تین سو تیرہ (۳۱۳) اصحاب ہیں وہ سب قطعی طور پر جنتی ہیں کیونکہ ان کی شان میں فرمایا گیا: ((إنّ اللہ قد اطّلع علی أھل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم)). 

    یعنی: بے شک اللہ تعالی اھل بد ر کو مطلع فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ :جو چا ہو عمل کرو بے شک میں نے تم کو بخش دیا ۔ 

    ''صحیح البخاري''، کتاب الجھاد والسیر، باب الجاسوس، الحدیث: ۳۰۰۷، ج۲، ص۳۱۱.

    دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ((لن یدخل اللہ النار رجلاً شہد بدراً والحدیبیۃ)). یعنی: اللہ تعالی بدر و حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں کو ہرگز آگ میں داخل نہ کریگا۔

    ذکر أھل أحد:

    فأحد: یعنی بعد از اھل بد ر فضیلت اھل غزوہ اُحد کے لئے ہے جو کہ سال چہارم ہجری میں واقع ہوا۔ 

     بیعت رضوان :

    أھل بیعت الرضوان: یعنی اھل غزوہ احد کے بعد فضیلت اھل بیعت رضوان کے لئے ہے ۔ یہ وہ نامی بیعت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں سے ہوئی چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: (لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ) پ۲۶، الفتح: ۱۸.

    ترجمہ : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

    اور حدیث مبارک میں ہے: ((لا یدخل النار أحدٌ بایعني تحت الشجرۃ)). یعنی: اللہ تعالی کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے گا جنہوں نے
Flag Counter