ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= ''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، الحدیث: ۱۱۸، ج۱، ص۸۴.
عن جابر عن أم مبشر عن حفصۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إني لأرجو أن لا یدخل النار إن شاء اللہ أحد شہد بدراً والحدیبیۃ))، قالت: فقلت: ألیس اللہ عزوجل یقول: (وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُہَا)، قال: فسمعتہ یقول: (ثُمَّ نُنَجّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا)۔
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۲۶۵۰۲، ج۱۰، ص۱۶۳۔
(لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ) پ۲۶، الفتح: ۱۸.
عن جابر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أنّہ قال: ((لا یدخل النار أحد ممن بایع تحت الشجرۃ)).
''سنن أبي داود''، کتاب السنۃ، باب في الخلفائ، الحدیث: ۴۶۵۳،ج۴، ص۲۸۱۔
''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب في فضل من بایع تحت الشجرۃ، الحدیث: ۳۸۸۶، ج۵، ص۴۶۲۔
شیخ المحققین خاتم المحدثین شیخ عبد الحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی مایہ ناز کتاب ''تکمیل الایمان'' میں فرماتے ہیں :
ذکر عشرہ مبشرہ :
باقي العشرۃ المبشرۃ: یعنی بعد از خلفاء اربعہ فضیلت بقیہ عشرہ مبشرہ کے لیے ہے ۔ اور عشرہ مبشرہ جن کی عرفیت ہے ، وہ دس صحابہ کرام ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دنیا میں جنت کی بشارت دے کر فرمایا : ((أبو بکر في الجنۃ وعمر فيالجنۃ وعثمان في الجنۃ وعلي في الجنۃ وطلحۃ في الجنۃ والزبیر في الجنۃ وعبد الرحمن بن عوف في الجنۃ وسعد بن أبي وقاص في الجنۃ وسعید بن زید في الجنۃ وأبو عبیدۃ بن الجراح في الجنۃ)). ''سنن الترمذ ي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۷۶۸، ج۵، ص۴۱۶.
و''المسند'' للإمام أحمد، ج۱، ص۴۱۰، الحدیث: ۱۶۷۵.
یعنی: ابو بکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر جنتی ہیں،عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں ، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں ، سعید بن زید جنتی ہیں ، ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں،( رضی اللہ تعالی عنھم)
یہ دس صحابہ کرام خیار امت ، افاضل صحابہ ، اکابر قریش ،پیشوائے مہاجرین اور اقاربِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم ، ان کے لیئے سبقت ایمان اور خد مت اسلام ثابت ہے ، جوکہ اوروں کے لئے نہیں ہے ، ان کا جنتی ہونا قطعی ہے لیکن یہ قطعیت بشارت انہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، بلکہ ان کے سوا بھی اور اصحاب بشارت یافتہ ہیں مثلاً :سید تنا فاطمہ ، امام حسن ، امام حسین ، حضرت خدیجہ ، حضرت عائشہ ، حضرت حمزہ ،حضرت عباس ، حضرت سلمان ، حضرت صہیب ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنھم وغیرھا ۔
ان د س اصحاب مبشرہ کی شہرت ولقب ،وقوع بشارت ایک حدیث اور ایک وقت میں ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کا ذکر عقائد کے ضمن میں بسبب اہتمام بشارت ، اور اھل زیغ کے مذہب کے ردوا بطال کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ ان کی شان میں گستاخی کرتے اور بے ادبی کی راہ چلتے