Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
247 - 278
    عقیدہ (۳): افضل کے یہ معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کے یہاں زیادہ عزت و منزلت والا ہو، اسی کو کثرتِ ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں، نہ کثرتِ اجر، کہ بارہا مفضول کے لیے ہوتی ہے۔(1) حدیث میں ہمراہیانِ سیّدنا اِمام مَہدی کی نسبت آیا کہ: ''اُن میں ایک کے لیے پچاس کا اجر ہے، صحابہ نے عرض کی: اُن میں کے پچاس کا یا ہم میں کے؟ فرمایا: بلکہ تم میں کے۔'' (2)

    تو اجر اُن کا زائد ہوا، مگر افضلیت میں وہ صحابہ کے ہمسر بھی نہیں ہو سکتے، زیادت درکنار، کہاں امام مَہدی کی رفاقت اور کہاں حضور سیّدِ عالَم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحابیت!، اس کی نظیر بلا تشبیہ یوں سمجھیے کہ سلطان نے کسی مہم پر وزیر اور بعض دیگر افسروں کو بھیجا، اس کی فتح پر ہر افسر کو لاکھ لاکھ روپے انعام دیے اور وزیر کو خالی پروانہ خوشنودی مزاج دیا تو انعام انھیں کو زائد ملا، مگر کہاں وہ اور کہاں وزیرِ اعظم کا اِعزاز؟ 

    عقیدہ (۴): ان کی خلافت بر ترتیب فضلیت ہے، یعنی جو عند اﷲ افضل و اعلیٰ و اکرم تھا وہی پہلے خلافت پاتا گیا، نہ کہ افضلیت بر ترتیب خلافت، یعنی افضل یہ کہ مُلک داری و مُلک گیری میں زیادہ سلیقہ ، جیسا آج کل سُنّی بننے والے تفضیلیے کہتے ہیں(3)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    وفي ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، إمامۃ العبد والأعرابي والفاسق...إلخ، ج۱، ص۶۱۱: (والرافضی إن فضل علیاً علی غیرہ فہو مبتدع).

1۔۔۔۔۔۔ یعنی اکثر و بیشتر اجر کی زیادتی ایسے شخص کے لیے ہوتی ہے جو افضل نہ ہو۔

2 ۔۔۔۔۔۔ عن أبي أمیۃ الشعباني قال: أتیت أبا ثعلبۃ الخشني فقلت لہ: کیف تصنع بہذہ الآیۃ؟ قال: أیّۃُ آیۃ؟ قلت: قولہ تعالی: (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ) قال: أمَا واللہ لقد سألت عنہا خبیرا سألت عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((بل ائتمروا بالمعروف وتناہوا عن المنکر حتی إذا رأیت شحّاً مطاعاً وہوًی متّبعاً، ودنیَا مؤثرۃً وإعجاب کل ذي رأي برأیہ فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوامّ، فإنّ من ورائکم أیاماً الصبر فیہن مثل القبض علی الجمر، للعامل فیہن مثل أجر خمسین رجلا یعملون مثل عملکم))، قال عبد اللہ بن المبارک: وزادني غیر عتبۃ قیل: یا رسول اللہ! أجر خمسین منّا أو منھم، قال: ((لا، بل أجر خمسین رجلاً منکم)).    

     ''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، الحدیث: ۳۰۷۹، ج۵، ص۴۲.

     و''ابن ماجہ''، کتاب الفتن، باب قولہ تعالی: (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ...إلخ)، الحدیث: ۴۰۱۴، ج۴، ص۳۶۵.

     في ''فتح الباري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ج۷، ص۶، تحت الحدیث: ۳۶۵۱: (أنّ حدیث: ((للعامل منھم أجر خمسین منکم)) لا یدلّ علی أفضلیۃ غیر الصحابۃ علی الصحابۃ؛ لأنّ مجرد زیادۃ الأجر لا یستلزم ثبوت الأفضلیۃ المطلقۃ، وأیضاً فالأجر إنّما یقع تفاضلہ بالنسبۃ إلی ما یماثلہ في ذلک العمل، فأمّا ما فاز بہ من شاہد النبي صلی اللہ علیہ وسلم من زیادۃ فضیلۃ المشاہدۃ فلا یعدلہ فیہا أحد).

3۔۔۔۔۔۔ في ''مجموعۃ الحواشي البہیۃ''، ''حاشیۃ عصام'' علی ''شرح العقائد''، ج۲، ص۲۳۶: (قولہ: ''علی ھذا الترتیب أیضاً'': یشعر أنّ مبني ترتیب الخلافۃ علی ترتیب الأفضلیۃ التيحکم بہا السلف).
Flag Counter