Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
248 - 278
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    وفي ''الطریقۃ المحمدیۃ'' مع شرح ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۹۳: (وأفضلہم أبو بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، ثم عمر الفاروق، ثم عثمان ذو النورین، ثم علي المرتضی، وخلافتہم) أي: ہؤلاء الأربعۃ عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کانت (علی ھذا الترتیب أیضاً) أي: کما ہي فضیلتہم کذلک، (ثم) بعدہم في الفضیلۃ (سائر) أي: بقیۃ (الصحابۃ رضي اللہ عنھم أجمعین).

    وفي ''المعتقد المنتقد''، الباب الرابع في الإمامۃ، ص۱۹۱: (والإمام الحق بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أبو بکر، ثم عمر، ثم عثمان، ثم علي رضي اللہ تعالی عنھم أجمعین، والفضیلۃ علی ترتیب الخلافۃ).

    قال الإمام أحمد رضا في حاشیتہ ''المعتمد المستند''، نمبر ۳۱۶، ص۱۹۱، تحت اللفظ: ''والفضیلۃ'' (تبع في ہذہ العبارۃ الحسنۃ الأئمۃ السابقین، وفیہا ردّ علی مفضلۃ الزمان المدعین السنیۃ بالزور والبہتان حیث أوّلوا مسألۃ ترتیب الفضیلۃ بأنّ المعنی الأولویۃ للخلافۃ الدنیویۃ، وہي لمن کان أعرف بسیاسۃ المدن وتجہیز العساکر وغیر ذلک من الأمور المحتاج إلیہا في السلطنۃ، وھذا قول باطل خبیث مخالف لإجماع الصحابۃ والتابعین رضي اللہ تعالی عنھم، بل الأفضلیۃ في کثرۃ الثواب وقرب الأرباب والکرامۃ عند اللہ تعالی، ولذا عبر عن المسألۃ في ''الطریقۃ المحمدیۃ'' وغیرہا في بیان عقائد السنۃ بأنّ أفضل الأولیاء المحمدیین أبو بکر ثم عمر ثم عثمان ثم علي رضي اللہ تعالی عنھم، وللعبد الضعیف في الردّ علی ھؤلاء الضالین کتاب حافل کافل بسیط محیط سمّیتُہ ''مطالع القمرین بإبانۃ سبقۃ العمرین'' ۱۲). 

    یعنی: اور امام بر حق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد ابو بکر ، پھر عمر ،پھر عثمان ،پھر علی رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین ہیں ، اور (ان چاروں کی ) فضیلت ترتیب خلافت کے موافق ہے ۔

    اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس کے حاشیہ میں ''والفضیلۃ'' کے تحت کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حسین عبارت میں مصنف رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ائمہ سابقین کی پیروی کی اور اس میں اس زمانے میں تفضیلیوں کا رد ہے جو جھوٹ اور بہتان کے بل پر سنّی ہونے کے مدّعی ہیں اس لئے کہ انہوں نے فضیلت میں ترتیب کے مسئلے کو (ظاہر سے) اس طرف پھیر ا کہ خلافت میں اولویت (خلافت میں زیادہ حقدار ہونے ) کا معنی دنیوی خلافت کا زیادہ حقدار ہونا ، او ریہ اس کے لئے ہے کہ جو شہروں کے انتظام اور لشکرسازی ، اور اس کے علاوہ دوسرے امور جن کے انتظام وانصرام کی سلطنت میں حاجت ہوتی ہے ان کا زیادہ جاننے والا ہو ۔ اور یہ باطل خبیث قول ہے ، صحابہ اور تابعین رضی اللہ تعالی عنھم کے اجماع کے خلاف ہے۔ بلکہ افضلیت ثواب کی کثرت میں اور رب الارباب (اللہ تعالی) کی نزدیکی میں اور اللہ تبارک وتعالی کے نزدیک بزرگی میں ہے ، اسی لئے '' طریقہ محمدیہ''وغیرہا کتا بوں میں اھلسنت وجماعت کے عقیدوں کے بیان میں اس مسئلے کی تعبیر یوں فرمائی کہ اولیاء محمد یین (محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امت کے اولیائ) میں سب سے افضل ابو بکر ہیں پھر عمر ہیں پھر عثمان ہیں ، پھر علی ہیں رضی اللہ تعالی عنھم اور اس ناتو اں بندے کی ان گمراہوں کے رد میں ایک جامع کتاب ہے جو کافی او ر مفصل اور تمام گوشوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کا نام میں نے '' مطلع القمرین في إبانۃ سبقۃ العمرین'' رکھا ۔ ۱۲ امام اھلسنت رضی اللہ تعالی عنہ
Flag Counter