افضل و خیر امت و سردار اوّلین و آخرین بتاتے،کیا آیہ کریمہ: (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَاَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ) (تو ان سے فرمادو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباھلہ کریں تو جھوٹوں پر اﷲکی لعنت ڈالیں)
و حدیث صحیح : ((من کنتُ مولاہ فعلي مولاہ)) .(جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے)۔
''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۷۳۳، ج۵، ص۳۹۸.
''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، الحدیث: ۱۲۱، ج۱، ص۸۶.
اور خبر شدید الضعف وقوی الجرح (نہایت درجہ ضعیف و قابل شدید جرح و تعدیل ) ((لحمک لحمي ودمک دمي)) (تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے)۔
''کنز العمال''، کتاب الفضائل، فضائل علي رضي اللہ تعالی عنہ، ج۱۱، ص ۲۷۹، الحدیث: ۳۲۹۳۳.
برتقدیر ثبوت (بشرطیکہ ثابت وصحیح مان لی جائے) وغیر ذلک (احادیث و اخبار)سے انہیں آگاہی نہ تھی۔(ہوش و حواس علم و شعور اور فہم وفراست میں یگانہ روزگار ہوتے ہوئے ان اسرارِ درون خانہ سے بیگانہ رہے اور اسی بیگانگی میں عمریں گزاردیں) یا (انہیں آگاہی اور ان اسرار پر اطلاع)تھی تو وہ (ان واضح الدلالۃ الفاظ) کا مطلب نہ سمجھے( اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے۔) یا سمجھے۔ (حقیقتِ حال سے آگاہ ہوئے) اور اس میں تفضیل شیخین کا خلاف پایا (مگر خاموش رہے اور جمہور صحابہ کرام کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاک جنابوں میں گستاخی اور ان پر تقیہّ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے) تو (اب ہم )کیونکر خلاف سمجھ لیں(کسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار ) اور تصریحات بیّنہ و قاطع الد لالۃ (روشن صراحتوں قطعی دلالتوں) وغیر محتملۃ الخلاف کو (جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں کوئی ہیر پھیر نہیں)کیسے پس پشت ڈال دیں الحمد ﷲرب العلمین کہ حق تبارک و تعالیٰ نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جواب شافی تعلیم فرمایا کہ منصف (انصاف پسندذی ہوش)کے لیے اس میں کفایت (اور یہ جواب اس کی صحیح رہنمائی وہ ہدایت کے لیے کافی) اور متعصب کو (کہ آتش غلو میں سُلگتا اور ضد و نفسانیت کی راہ چلتا ہے) اس میں غیظ بے نہایت (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ) (انہیں آتش ِ غضب میں جلنا مبارک) (ہم مسلمانانِ اھلسنت کے نزدیک حضرت مولیٰ کی ماننا) یہی محبتِ علی مرتضیٰ ہے اور اس کا بھی (یہی تقاضا )یہی مقتضیٰ ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اَسّی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے (والعیاذ باﷲ)''۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۶۳ تا۳۷۰.
1۔۔۔۔۔۔ في ''الفتاوی البزازیہ''، کتاب السیر، نوع فیما یتصل بہ۔۔۔ إلخ، ج۶، ص۳۱۹: (الرافضي إن کان یفضل علیاً علیھما فہو مبتدع)، ھامش ''الہندیۃ''۔
وفي ''فتح القدیر''، باب الإمامۃ ،ج۱، ص۳۰۴: (وفي الروافض أنّ من فضل علیاً رضي اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع).