ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابوعمر بن عبداﷲحکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی ''سنن'' میں راوی جناب امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ فرماتے ہیں:
((لا أجد أحداً فضلني علی أبي بکر وعمر إلاّ جلدتہ حد المفتري)) ''الصواعق المحرقۃ''، ص۶۰۔
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما) سے مجھے افضل بتاتا (اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا )ہے اسے مُفتری (افتراء و بہتان لگانے والے) کی حد ماروں گا کہ اسّی کوڑے ہیں۔
ابوالقاسم طلحی ''کتاب السّنّتہ'' میں جناب علقمہ سے راوی: بلغ علیّا أنّ أقواماً یفضّلونہ علی أبي بکر وعمر فصعد المنبر فحمد اﷲ وأثنی علیہ ثم قال: أیہا الناس! ((أنّہ بلغني أنّ أقواماً یفضّلوني علی أبي بکر وعمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتري، ثم قال: إنّ خیر ھذہ الأمۃ بعد نبیہا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أبو بکر ثم عمر ثم اﷲ أعلم بالخیر بعدہ، قال: وفي المجلس الحسن بن علی فقال: واﷲ لو سمّی الثالث لسمی عثمٰن)).
یعنی جناب مولیٰ علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنھما پر تفضیل دیتے (اور حضرت مولیٰ کو ان سے افضل بتاتے) ہیں۔ پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲتعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا :اے لوگو!مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سُنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پھلی بار تفہیم (وتنبیہ) پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سنوں گا تو وہ مفتری (بہتان باندھنے والا)ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہے، پھر فرمایا :بے شک بہتر اس امت کے بعد ان نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر خداخوب جانتا ہے بہتر کو ان کے بعد، اور مجلس میں امام حسن (رضی اللہ عنہ)بھی جلوہ فرما تھے انہوں نے ارشاد کیا: خدا کی قسم !اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمٰن کا نام لیتے۔ ''إزالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفائ'' بحوالہ أبي القاسم مسند علي بن أبي طالب، ج۱، ص۶۸۔
بالجملہ احادیث ِ مرفوعہ و اقوالِ حضرت مرتضوی و اھلبیت نبوت اس بارے میں لا تعداد ولا تحصی (بے شمار ولا انتہا) ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ تفضیل میں کی ۔ اب اھل سنت (کے علمائے ذوی الاحترام)نے ان احادیث و آثار میں جو نگاہ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صدہا تصریحیں (سیکڑوں صراحتیں) علی الاطلاق پائیں کہیں جہت و حیثیت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو افضیلت (حاصل ہے) لھذا انہوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائل خاصہ و خصائص فاضلہ (مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں) حضرت مولیٰ ( علی مشکل کُشا کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ) اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل (اور بعطائے الہٰی وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل) جو حضرات شیخین (کریمین جلیلین )نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادق ہے (کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائصِ غالیہ اور فضائل عالیہ بارگاہ ِ الہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا)مگر فضل مطلق کُلّ (کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مطلقہ کُلّیہ) جو کثرتِ ثواب و زیادتِ قُربِ ربّ الارباب سے عبارت ہے وہ انہیں کو عطا ہوا (اوروں کے نصیب میں نہ آیا)۔
اور (یہ اھل سنت و جماعت کا وہ عقیدہ ثابتہ محکمہ ہے کہ) اس عقیدہ کا خلاف اوّل تو کسی حدیث صحیح میں ہے ہی نہیں اور اگر بالفرض کہیں بوئے خلاف پائے بھی تو سمجھ لے کہ یہ ھماری فہم کا قصور ہے (اور ھماری کوتاہ فہمی) ورنہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور خود حضرت مولیٰ (علی) واھلبیت کرام (صاحب البیت ادرٰی بما فیہ کے مصداق اسرار خانہ سے مقابلۃً واقف تر)کیوں بلا تقیید (کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر) انہیں