Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
244 - 278
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    (قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاء ُ) ۔

    اس کی کتاب کریم اور اس کا رسول عظیم علیہ و علیٰ آلہ الصلوۃ والتسلیم علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد ماجد مولیٰ علی کرم اﷲوجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں ۔

    کہ فرماتے ہیں: ((کنت عند النبي صلی اللہ علیہ وسلم فاقبل أبو بکر وعمر، فقال: یا علي ھذان سیّدا کہول أھل الجنۃ وشبابھا بعد النبیین والمرسلین)). '' المسند'' للإمام أحمد، الحدیث: ۶۰۲، ج۱، ص۱۷۴.

    ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۶۸۵، ج۵، ص۳۷۶.

    و''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، فضل أبي بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، الحدیث: ۱۰۰، ج۱، ص۷۵. 

    ''میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ علی!یہ دونوں سردار ہیں اھل جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کے بعد انبیاء و مرسلین کے''۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راوی،حضور کا ارشاد ہے: ((أبو بکر وعمر خیر الأولین والآخرین وخیر أھل السموات وخیر أھل الأرضین إلاّ النبیین والمرسلین)). رواہ الحاکم في ''الکنی'' وابن عدی وخطیب.    

    ابوبکر و عمر بہتر ہیں سب اگلوں پچھلوں کے،اور بہتر ہیں سب آسمان والوں سے اور بہتر ہیں سب زمین والوں سے،سوا انبیا و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔

    ''کنز العمال''، کتاب الفضائل، فضائل أبي بکر وعمر رضي اللہ تعالی عنھما، ج۱۱، ص ۲۵۶، الحدیث: ۳۲۶۴۲.

    خود حضرت مولیٰ علی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ نے بار بار اپنی کرسی مملکت و سطوت (و دبدبہ)خلافت میں افضلیت مطلقہ شیخین کی تصریح فرمائی (اور صاف صاف واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ دونوں حضرات علی الاطلاق بلا قیدِ جہت و حیثیت تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں) اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اسّی سے زیادہ صحابہ و تابعین نے اسے روایت کیا۔ اور فی الواقع اس مسئلہ (افضلیت شیخ کریمین)کو جیسا حق مآب مرتضوی نے صاف صاف واشگاف بہ کرّات و مرّات (بار بار موقع بہ موقع اپنی ) جَلَوات وخلوات (عمومی محفلوں ،خصوصی نشستوں ) و مشاہد عامہ و مساجد جامعہ (عامۃ الناس کی مجلسوں اور جامع مسجدوں) میں ارشاد فرمایا دوسروں سے واقع نہیں ہوا۔

    (ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ) امام بخاری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راوی : قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: ((أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر))۔

    یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: ''ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر''۔

''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۷۱، ج۲، ص۵۲۲.
Flag Counter