ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بہر گلے کہ ازیں چار باغ می نگرم
بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(ان چار باغوں میں سے جس پھول کو میں دیکھتا ہوں تو بہار میرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے)۔
علی الخصوص شمع شبستان ولایت ، بہار چمنستانِ معرفت، امام الواصلین،سیّد العارفین، (واصلانِ حق کے امام اھل معرفت کے پیش رو) خاتمِ خلافت نبوت، فاتح سلاسل طریقت ، مولیٰ المسلمین ، امیر المومنین ابوالائمۃ الطاھرین (پاک طینت ،پاکیزہ خصلت، اماموں کے جدا مجد طاہر مطہر، قاسمِ کوثر، اسد اﷲالغالب،مظہر العجاءب والغرائب، مطلوب کل طالب،سیدنا و مولانا علی بن ابی طالب کرم اﷲتعالیٰ وجہہ الکریم وحشرنا في زمرتہ في یوم عقیم کہ اس جناب گردوں قباب (جن کے قبہ کی کلس آسمان برابر ہے ان ) کے مناقب جلیلہ (اوصافِ حمیدہ) ومحامد جمیلہ ( خصائل حسنہ) جس کثرت و شہرت کے ساتھ (کثیر و مشہورزبان زد عام و خواص) ہیں دوسرے کے نہیں۔
(پھر) حضرات شیخین،صاحبین صہرین (کہ ان کی صاحبزادیاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں اور امہات المومنین مسلمانوں ایمان والوں کی مائیں کھلائیں) وزیرین (جیسا کہ حدیث شریف میں وارد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں جبرائیل ومیکائیل اور دو وزیر زمین پر ہیں ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما) امیرین ( کہ ہر دو امیر المومنین ہیں)مشیرین (دونوں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رکن اعظم (ضجیعین (ہم خواجہ اور دونوں اپنے آقا و مولیٰ کے پھلو بہ پھلو آج بھی مصروفِ استراحت ) رفیقین (ایک دوسرے کے یارو غمگسار) سیّدنا و مولٰنا عبداﷲالعتیق ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابوحفص عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی شانِ والا سب کی شانوں سے جداہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت خدا ور رسول ِ خدا جل جلالہ و صلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ہے بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیک ہے دوسرے کا نہیں اور رب تبارک و تعالیٰ سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہِ عرش اشتباہ رسالت میں جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں کا نصیبا نہیں اور منازل جنت ومواہب بے منت میں انہیں کے درجات سب پر عالی فضائل و فواضل (فضیلتوں اور خصوصی بخششوں ) و حسنات طیبات (نیکیوں اور پاکیزگیوں) میں انہیں کو تقدم و پیشی ( یہی سب پر مقدم۔،یہی پیش پیش) ھمارے علماء و آئمہ نے اس (باب) میں مستقل تصنیفیں فرما کر سعادتِ کونین و شرافتِ دارین حاصل کی(ان کے خصائل تحریر میں لائے،ان کے محاسن کا ذکر فرمایاان کے اولیات و خصوصیات گنائے) ورنہ غیر متناہی (جو ھماری فہم و فراست کی رسائی سے ماورا ہو۔ اس)کا شمار کس کے اختیار واﷲالعظیم اگر ہزاروں دفتر ان کے شرح فضائل (اور بسط فواضل) میں لکھے جائیں یکے ازہزار تحریر میں نہ آئیں۔
وعلی تفنن واصفیہ بحسنہ یغنی الزمان وفیہ ما لم یوصف
(اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا)
مگر کثرتِ فضائل و شہرتِ فواضل (کثیر در کثیر فضیلتوں کا موجود اور پاکیزہ و برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا) چیزے دیگر (اور بات ہے) اور فضیلت و کرامت (سب سے افضل اور بارگاہِ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا۔) امرے آخر (ایک اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز) فضل اﷲتعالیٰ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے ۔