Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
239 - 278
اور عَلویت کی شرط نے تو مولیٰ علی کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کر دیا، مولیٰ علی، علوی کیسے ہو سکتے ہیں! رہی عصمت، یہ انبیا و ملائکہ کا خاصہ ہے، جس کو ہم پہلے بیان کر آئے(1)، امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔ (2) 

    مسئلہ(۱): محض مستحقِ امامت ہونا امام ہونے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اھلِ حَلّ و عقد(3) نے اُسے امام مقرر کیا ہو، یا امامِ سابق نے۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا فکا نت الصلوۃ عظیم الإسلام وقوام الدین، فبایعنا أبابکر رضي اللہ تعالی عنہ فکان لذلک أھلاً لم یختلف علیہ منا اثنان. پس جبکہ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ہم نے اپنے کاموں میں نظر کی تو اپنی دنیایعنی خلافت کے لئے اسے پسندکرلیا جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ھمارے دین یعنی نماز کے لئے پسند فرمایاتھاکہ نماز تو اسلام کی بزرگی اوردین کی درستی تھی لھذا ہم نے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کی اوروہ اس کے لائق تھے ہم میں کسی نے اس بارہ میں خلاف نہ کیا۔ یہ سب کچھ ارشاد کر کے حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی نے فرمایا: فادّیت إلی أبي بکر حقہ وعرفت لہ طاعتہ وغزوت معہ في جنودہ وکنت اٰخذاً إذا أعطاني وأغزو إذا غزاني وأضرب بین یدیہ الحدود بسوطي. پس میں نے ابو بکر کو ان کا حق دیا اوران کی اطاعت لازم جانی اور ان کے ساتھ ہوکر ان کے لشکروں میں جہاد کیا جب وہ مجھے بیت المال سے کچھ دیتے میں لے لیتا اور جب مجھے لڑائی پر بھیجتے میں جاتا اورانکے سامنے اپنے تازیانہ سے حد لگاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بعینہٖ یہی مضمون امیرالمومنین فاروق اعظم وامیر المومنین عثمان غنی کی نسبت ارشاد فرمایا، رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین۔

''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۸، ص۴۷۲۔۴۷۳.

1۔۔۔۔۔۔ دیکھیں اسی کتاب کا صفحہ نمبر۳۸۔

2۔۔۔۔۔۔ في''شرح المقاصد''، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۴: (من معظم الخلافیات مع الشیعۃ اشتراطھم أن یکون الإمام معصوما).

3۔۔۔۔۔۔ دینی اور دنیاوی انتظامی معاملات کوجاننے والے۔ 

4۔۔۔۔۔۔ في ''الفقہ الأکبر''، نصب الإمام واجب، ص۱۴۶: (الإمامۃ تثبت عند أھل السنۃ والجماعۃ إمّا باختیار أھل الحل والعقد من العلماء وأصحاب العدل والرأي کما تثبت إمامۃ أبي بکر رضي اللہ عنہ، وإمّا بتنصیص الإمام وتعیینہ کما تثبت إمامۃ عمر رضي اللہ عنہ باستخلاف أبي بکر رضي اللہ عنہ إیاہ).

    وفي ''المسامرۃ''، ما یثبت عقد الإمامۃ، ص۳۲۶: (ویثبت عقد الإمامۃ) بأحد أمرین: (إمّا باستخلاف الخلیفۃ إیّاہ کما فعل أبو بکر الصدیق رضي اللہ عنہ) حیث استخلف عمر رضي اللہ عنہ، وإجماع الصحابۃ علی خلافتہ بذلک إجماع علی صحۃ الاستخلاف، (وإمّا بیعۃ) من تعتبر بیعۃ من أھل الحل والعقد، ولا یشترط بیعۃ جمیعہم، ولا عدد محدود، بل یکفي بیعۃ (جماعۃ من العلماء أو) جماعۃ (من أھل الرأي والتدبیر).
Flag Counter