ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''رد المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبری ،ج۲، ص۳۳۳ ۔ ۳۳۴: (قولہ: لا ھاشمیا...الخ) أي: لا یشترط کونہ ھاشمیاً: أي: من أولاد ھاشم بن عبد مناف کما قالت الشیعۃ نفیاً لإمامۃ أبي بکر وعمر وعثمان رضي اللہ تعالی عنھم، ولا علویاً: أي: من أولاد عليّ بن أبي طالب کما قال بہ بعض الشیعۃ نفیاً لخلافۃ بني العباس، ولا معصوماً کما قالت الإسماعیلیۃ والاثنا عشریۃ: أي: الإمامیۃ).
2۔۔۔۔۔۔ في ''شرح المقاصد''، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۲: (وکفی بإجماع المسلمین علی إمامۃ الأئمۃ الثلا ثۃ حجۃ علیہم).
3۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت عظیم البرکت، عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ ''شریف میں فرماتے ہیں: امام اسحٰق بن راہو یہ ودارقطنی وابن عساکر وغیرہم بطرقِ عدیدہ واسانید کثیرہ راوی، دوشخصوں نے امیر المومنین مولی علی کرم ا للہ وجہہ الکریم سے ان کے زمانہ خلافت میں دربارہ خلافت استفسارکیا: اعھدعھدہ إلیک النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أم رای رأیتہ.کیا یہ کوئی عہد وقرارداد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا آپ کی رائے ہے فرمایا: بل رائ رأیتہ بلکہ ھماری رائے ہے أما أن یکون عندي عھد من النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عھدہ إلیّ في ذلک فلا، واللہ لئن کنت أوّل من صدّق بہ فلا أکون أوّل من کذب علیہ.رہا یہ کہ اسباب میں میرے لئے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کوئی عہدہ قرارداد فرمادیا ہو سو خدا کی قسم ایسا نہیں ،اگر سب سے پہلے میں نے حضور کی تصدیق کی تو میں سب سے پہلے حضور پر افتراء کرنے والا نہ ہوں گا، ولو کان عندي منہ عھد في ذلک ما ترکت أخا بني تیم بن مرۃ وعمر بن الخطاب یثوبان علی منبرہ ولقاتلتھما بیدي ولولم اجد إلاّ بردتي ھذہ. اوراگر اسباب میں حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے میرے پا س کوئی عہد ہوتا تو میں ابوبکر وعمر کو منبر اطہر حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر جست نہ کرنے دیتا اوربیشک اپنے ہاتھ سے اُن سے قتال کرتا اگرچہ اپنی اس چادر کے سواکوئی ساتھی نہ پاتا ولکن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لم یقتل قتلا ولم یمت فجأۃ مکث في مرضہ أیّاماً ولیا لي یأتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیأمر أبابکر فیصلي بالناس وھو یری مکاني ثم یأتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیأمر أبابکر فیصلي بالناس وھو یری مکاني بات یہ ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم معاذاللہ کچھ قتل نہ ہوئے نہ یکایک انتقال فرمایا بلکہ کئی دن رات حضور کو مرض میں گزرے ، مؤذن آتا نماز کی اطلاع دیتا، حضور ابوبکر کو امامت کا حکم فرماتے حالانکہ میں حضور کے پیش نظر موجودتھا،پھر مؤذن آتا اطلاع دیتا حضور ابوبکر ہی کو امامت دیتے حالانکہ میں کہیں غائب نہ تھا، ولقد أرادت إمرأۃ من نسائہ أن تصرفہ عن أبي بکر فأبی وغضب وقال :أنتنّ صواحب یوسف مروا أبابکر فلیصل بالناس. اورخدا کی قسم ازواج مطہرات میں سے ایک بی بی نے اس معاملہ کو ابوبکر سے پھیرنا چاہاتھا، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نہ مانا اورغضب کیا اورفرمایا تم وہی یوسف (علیہ السلام)والیاں ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ امامت کرے، فلمّا قبض رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نظرنا في أمورنا فاخترنا لدنیا نا من رضیہ رسول اللہ