| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
مسئلہ (۲): امام کی اِطاعت مطلقاً ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، خلافِ شریعت میں کسی کی اطاعت نہیں۔ (1)
مسئلہ (۳): امام ایسا شخص مقرر کیا جائے، جو شجاع اور عالم ہو، یا علماء کی مدد سے کام کرے۔
مسئلہ (۴): عورت اور نابالغ کی امامت جاءز نہیں(2)، اگر نابالغ کو امامِ سابق نے امام مقرر کر دیا ہو تو اس کے بلوغ تک کے لیے لوگ ایک والی مقرر کریں کہ وہ احکام جاری کرے اور یہ نابالغ صرف رسمی امام ہو گا اور حقیقۃً اُس وقت تک وہ والی اِمام ہے۔ (3)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) پ۵، النساء:۵۹.
في ''تفسیر المدارک''، ص۲۳۴، تحت الآیۃ: (دلت الآیۃ علی أنّ طاعۃ الأمراء واجبۃ إذا وافقوا الحق، فإذا خالفوہ فلا طاعۃ لہم لقولہ علیہ السلام: ((لا طاعۃ لمخلوق في معصیۃ الخالق))).
عن ابن عمر رضي اللہ عنھما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((السمع والطاعۃ حق ما لم یؤمر بمعصیۃ، فإذا أمر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجہاد، باب السمع والطاعۃ للإمام، الحدیث: ۲۹۵۵، ج۲، ص۲۹۷.
عن عبد اللہ رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فیما أحب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃ، فإذا أمر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ)).
''صحیح البخاري''، کتاب الأحکام، باب السمع والطاعۃ للإمام مالم تکن معصیۃ، الحدیث: ۷۱۴۴، ج۴، ص۴۵۵.
''صحیح مسلم''، کتاب الإمارۃ، باب وجوب طاعۃ الأمرائ۔۔۔۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۸۳۹، ص۱۰۰۸.
في ''الدر المختار'': (طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ فرض)۔
وفي ''ردّ المحتار'': (والأصل فیہ قولہ تعالی: (وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) وقال صلی اللہ علیہ وسلم: ((اسمعوا وأطیعوا ولو أمّر علیکم عبد حبشي أجدع))، وروي: ((مجدع))۔ وعن ابن عمر أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال: ((علیکم بالسمع والطاعۃ لکلّ من یؤمر علیکم ما لم یأمرکم بمنکر))، ففي المنکر لا سمع ولا طاعۃ)۔
''الدر المختار'' مع ''رد المحتار''، کتاب الجہاد، باب البغاۃ، ج۶، ص۴۰۳۔۴۰۴۔
2۔۔۔۔۔۔ في ''المسامرۃ'' بشرح ''المسایرۃ''، الأصل التاسع: شروط الإمام، ص۳۱۸: (لا تصحّ إمامۃ الصبي والمعتوہ؛ لقصور کلّ منھما عن تدبیر نفسہ، فکیف تدبیر الأمور العامۃ؟۔۔۔۔۔۔ وأنّ إمامۃ المرأۃ لا تصحّ؛ إذ النساء ناقصات عقل ودین کما ثبت بہ الحد یث الصحیح)، ملتقطاً.
3۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۵۔۳۳۶: وتصح سلطنۃ متغلب للضرورۃ، وکذا صبي. وینبغي أن یفوّض أمور التقلید علی وال تابع لہ، والسلطان في الرسم ہو الولد، وفي الحقیقۃ ہو الوالي لعدم صحۃ إذنہ بقضاء