| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
امامت دو ۲ قسم ہے:
(۱) صغریٰ۔ (۲) کبریٰ۔ (1)
امامتِ صغریٰ، امامتِ نماز ہے(2) ، اِس کا بیا ن اِن شاء اﷲ تعالیٰ کتابُ الصلاۃ میں آئے گا۔
امامتِ کبریٰ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیابتِ مطلقہ، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام اُمورِ دینی ودنیوی میں حسبِ شرع تصرّفِ عام کا اختیار رکھے اور غیرِ معصیت میں اُس کی اطاعت، تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہو۔(3) اِس امام کے لیے مسلمان، آزاد، عاقل، بالغ، قادر، قرشی ہونا شرط ہے۔ ہاشمی، علوی، معصوم ہونا اس کی شرط نہیں۔ (4) اِن کا شرط کرنا روافض کا مذہب ہے، جس سے اُن کا یہ مقصد ہے کہ برحق اُمرائے مؤمنین خلفائے ثلٰثہ ابو بکر صدیق و عمرِ فاروقـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ (ھي صغری وکبری). ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ ، ج۲، ص۳۳۱.
2۔۔۔۔۔۔ (والصغری ربط صلاۃ المؤتم بالإمام) ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ ، ج۲، ص۳۳۷.
3۔۔۔۔۔۔ في ''المقاصد''، الفصل الرابع في الإمامۃ، ج۳، ص۴۹۶: (الإمامۃ: وھي ریاسۃ عامۃ في أمر الدین والدنیا خلافۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم).
وفي ''المسامرۃ''، الأصل السابع في الإمامۃ، ص۲۹۵: (الإمامۃ بأنّہا خلافۃ الرسول في إ قامۃ الدین وحفظ حوزۃ الملۃ بحیث یجب اتباعہ علی کافۃ الأمۃ).
و''رد المحتار''، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۲.
وفي ''شرح المقاصد''، الفصل الرابع في الإمامۃ، ج۳، ص۴۷۰: (یجب طاعۃ الإمام ما لم یخالف حکم الشرع).
4۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۳: (ویشترط کونہ مسلماً حراً ذکراً عاقلاً بالغاً قادراً قرشیاً، لا ہاشمیاً علویاً معصوماً).
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الإمامۃ، ص۱۵۶: (ولا یشترط أن یکون ہاشمیاً أو علویاً، ولا یشترط في الإمام أن یکون معصوماً). ملتقطاً.
وفي ''المعتقد المنتقد''، الباب الرابع في الإمامۃ، ص۱۹۰۔۱۹۱: (ولا یشترط کونہ ھاشمیاً، ولا معصوماً؛ لأنّ العصمۃ من خصائص الأنبیاء). ملتقطاً.