Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
236 - 278
حضرت امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں:
((نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ.))(1)
''یہ اچھی بدعت ہے۔'' 

    حالانکہ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے(2)، جس امر کی اصل شرع شریف سے ثابت ہو وہ ہرگز بدعتِ قبیحہ نہیں ہوسکتا، ورنہ خود وہابیہ کے مدارس اور اُن کے وعظ کے جلسے، اس ہیأتِ خاصہ کے ساتھ ضرور بدعت ہوں گے۔ پھر انھیں کیوں نہیں موقوف کرتے...؟ مگر ان کے یہاں تو یہ ٹھہری ہے کہ محبوبانِ خدا کی عظمت کے جتنے اُمور ہیں، سب بدعت اور جس میں اِن کا مطلب ہو، وہ حلال و سنت۔
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الصوفیۃ، وإمّا مکروہۃ کزخرفۃ المساجد وتزویق المصاحف یعني عند الشافعیۃ، وأمّا عند الحنفیۃ فمباح، والتوسع في لذائذ المآکل والمشارب والمساکن وتوسیع الأکمام، وقد اختلف في کراہۃ بعض ذلک أي: کما قدمنا،۔۔۔۔۔۔ وقال عمر رضي اللہ عنہ في قیام رمضان: نعمت البدعۃ۔ وروي عن ابن مسعود: ((ما رآہ المسلمون حسناً فہو عند اللہ حسن))، وفي حدیث مرفوع: ((لا یجتمع أمتي علی الضلالۃ)) رواہ مسلم)، ملخصاً.

1۔۔۔۔۔۔ عن عبد الرحمن بن عبد القاري أنّہ قال: خرجت مع عمر بن الخطاب في رمضان إلی المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون یصلي الرجل لنفسہ، ویصلي الرجل فیصلي بصلاتہ الرہط، فقال عمر: (واللہ إني لأراني لو جمعت ہؤلاء علی قاریئ واحد لکان أمثل، فجمعہم علی أبي بن کعب، قال ثم خرجت معہ لیلۃ أخری والناس یصلون بصلاۃ قارئہم فقال عمر: نعمت البدعۃ ہذہ، والتي تنامون عنہا أفضل من التی تقومون یعنی آخر اللیل وکان الناس یقومون أولہ).

    ''الموطأ'' للإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ما جاء في قیام رمضان، الحدیث: ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰. 

    و''صحیح البخاري''، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث: ۲۰۱۰، ج۲، ص۱۵۷.

2۔۔۔۔۔۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، (التروایح سنۃ مؤکدۃ لمواظبۃ الخلفاء الراشدین للرجال والنساء إجماعاً). ج۲، ص۵۹۶۔۵۹۷.
Flag Counter