Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
231 - 278
    اسی کتاب کے صفحہ ۵ پر ہے: ''کہ انبیا اپنی امّت سے ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں، باقی رہا عمل، اس میں بسا اوقات بظاہر امّتی مساوی ہو جاتے ہیں، بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔'' (1) 

    اور سنیے! اِن قائل صاحب نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) کی نبوت کو قدیم اور دیگر انبیا کی نبوت کو حادث بتایا۔ 

    صفحہ ۷ میں ہے: ''کیونکہ فرق قِدمِ نبوت اور حُدوثِ نبوت باوجود اتحادِ نوعی خوب جب ہی چسپاں ہوسکتا ہے۔'' (2) 

    کیا ذات و صفات کے سوا مسلمانوں کے نزدیک کوئی اور چیز بھی قدیم ہے...؟! نبوت صفت ہے اور صفت کا وجود بے موصوف محال، جب حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم کی نبوت قدیم غیر حادث ہوئی تو ضرور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم بھی حادث نہ ہوئے، بلکہ ازلی ٹھہرے اور جو اﷲ (عزوجل) و صفاتِ الۤہیہ کے سوا کسی کو قدیم مانے باجماعِ مسلمین کافر ہے۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''تحذیر الناس''، نبوّت کمالات علمی میں سے ہے، ص۷:
Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (231-a).gif
2۔۔۔۔۔۔ ''تحذیر الناس''، آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نبوّت وصف ذاتی ہے، ص۹:
Bahaar-e-Shareeat-1 Qadyani (231-b).gif
3 ۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں : ''باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے''۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۴، ص۲۶۶:

    اسی طرح ایک اور مقام پر نقل فرماتے ہیں کہ: ''آئمہ دین فرماتے ہیں :''جو کسی غیر خدا کو ازلی کہے باجماع مسلمین کافر ہے''۔'' شفا'' و''نسیم'' میں فرمایا: (من اعترف بإلٰہیۃ اللہ تعالی ووحدانیتہ لکنّہ اعتقد قدیماً غیرہ (أي: غیر ذاتہ وصفاتہ، إشارۃ إلی مذہب إلیہ الفلاسِفۃ من قِدِم العالَمِ والعقول) أو صانعاً للعالَم سواہ (کالفلاسفۃ الذین یقولون: إنّ الواحد لا یصدر عنہ إلاّ واحد) فذلک کلّہ کفر (ومعتقدہ کافر بإجماع المسلمین، کالإلٰہین من الفلاسفۃ والطبائعین)اھ ملخصاً. یعنی: جس نے اللہ تعالی کی الوہیت ووحدانیت کا اقرار کیا لیکن اللہ تعالی کے غیر کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھا (یعنی اللہ تعالی کی ذات وصفات کے علاوہ ، یہ فلاسفہ کے مذہب یعنی عالَم وعقول کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ ہے) یا اللہ تعالی کے سوا کسی کو صانع عالَم مانا (جیسے فلاسفہ جو کہ کہتے ہیں واحد سے نہیں صادر ہوتا ہے مگر واحد) تو یہ سب کفر ہے ، (اور اس کے معتقد کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جیسے فلاسفہ کا فرقہ الہیہ اور فرقہ طبائعیہ) اھ، تلخیص (ت) ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۷، ص۱۳۱.                                                   انظر للتفصیل'' الکوکبۃ الشہابیۃ'' ج ۱۵، ص۱۶۷، و'' سل السیوف'' ج ۱۵، ص۲۳۹ في''الفتاوی الرضویۃ''۔
Flag Counter